ایران کے حملوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو جان لیوا خطرے میں ڈال دیا، برطانوی اخبار

ایران کے حملوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو جان لیوا خطرے میں ڈال دیا، برطانوی اخبار

ایران کے ساتھ تقریباً چھ ماہ تک جاری رہنے والی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل کے حوالے سے واشنگٹن کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک سوال کھڑا کردیا ہے۔

 برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے، جس کے بعد امریکا کو اپنی فوجی تنصیبات، دفاعی حکمتِ عملی اور خطے میں افواج کی تعیناتی پر ازسرنو غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی فوجی اڈے دباؤ میں کیوں آئے؟
امریکا گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے خلیجی ممالک میں فوجی اڈوں، فضائی تنصیبات اور لاجسٹک مراکز کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ اڈے خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں، فضائی نگرانی، انٹیلیجنس اور اتحادی ممالک کے دفاع کے لیے اہم تصور کیے جاتے ہیں۔تاہم ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ان تنصیبات کو جدید میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایرانی حملوں نے بالخصوص ان بڑے امریکی اڈوں کی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے جو ایرانی ساحلوں اور میزائل حملوں کی ممکنہ رینج کے نسبتاً قریب واقع ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس صورتحال نے امریکی فوجی منصوبہ سازوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ مستقبل کی جنگ میں بڑے اور مستقل فوجی اڈے کس حد تک قابلِ اعتماد اور محفوظ رہ سکتے ہیں۔

امریکا نے افواج کی پوزیشن تبدیل کردی
ایرانی حملوں کے دباؤ کے نتیجے میں امریکا نے بعض فوجیوں اور جنگی طیاروں کو نسبتاً محفوظ اور دور دراز مقامات پر منتقل کیا۔ ان میں اسرائیل، اردن اور خطے کے دیگر مقامات شامل ہیں۔کچھ امریکی طیاروں اور ڈرونز نے یورپ میں موجود فوجی اڈوں سے بھی کارروائیاں انجام دیں۔ اس تبدیلی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکا مستقبل میں ایسے فوجی ڈھانچے پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے جس میں تمام اہم جنگی صلاحیتیں ایک ہی بڑے اڈے پر مرکوز نہ ہوں۔

اربوں ڈالر کا تعمیرِ نو کا سوال
اب واشنگٹن کو ایک اہم مالی اور فوجی فیصلہ کرنا ہوگا: کیا ایران کے حملوں سے متاثر ہونے والی فوجی تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کرنے پر اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں یا خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے پورے ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے؟واشنگٹن کے تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے اپریل میں کیے گئے ایک اندازے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے سات ممالک میں موجود 11 امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت اور بحالی پر تقریباً 5 ارب ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کی مجموعی لاگت کے اندازوں میں ان فوجی اڈوں کی تعمیرِ نو کے اخراجات شامل نہیں کیے گئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکا ان تنصیبات کو مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو جنگ کے بعد آنے والے اضافی اخراجات بھی امریکی دفاعی بجٹ پر نمایاں دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

ایران بھی اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرسکتا ہے
فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی حکمتِ عملی میں ممکنہ تبدیلی کے ساتھ ایران بھی اپنی فوجی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کی حکمتِ عملی کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق ایران مستقبل میں ایسے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے جو اردن، اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی و تحادی اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔اس تجزیے کے مطابق اگر امریکا اپنے بڑے فوجی اڈوں کو ایرانی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے افواج کو زیادہ دور منتقل کرتا ہے تو ایران بھی اپنے میزائل پروگرام اور ہدف بندی کی صلاحیتوں کو اسی حساب سے تبدیل کرسکتا ہے۔یعنی امریکی اڈوں کو ایرانی سرزمین سے مزید دور منتقل کرنا خطرہ ختم کرنے کے بجائے جنگی حکمتِ عملی میں ایک نئی دوڑ پیدا کرسکتا ہے۔

خلیجی ممالک کے لیے بھی نئی صورتحال
اس جنگ کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں ہیں بلکہ خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال انتہائی اہم ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا اور خلیجی ریاستوں کے درمیان کئی دہائیوں سے ایک ایسا سکیورٹی انتظام موجود رہا ہے جس میں امریکا خطے کی سلامتی کے لیے فوجی طاقت اور دفاعی تعاون فراہم کرتا رہا جبکہ خلیجی ممالک امریکا کے لیے توانائی اور تیل کے حوالے سے اہم شراکت دار رہے ہیں۔لیکن حالیہ صورتحال میں بعض خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکا کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ رجحان مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن پر اثر انداز ہوسکتا ہے، کیونکہ علاقائی ممالک اب صرف ایک عالمی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے متعدد ممالک کے ساتھ دفاعی، سفارتی اور معاشی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

امریکی اتحادیوں کا اعتماد بھی اہم سوال
ایران کے ساتھ جنگ نے امریکا کے اتحادیوں کے سامنے بھی ایک بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے: اگر مستقبل میں کسی خلیجی یا دوسرے اتحادی ملک پر بڑا حملہ ہوتا ہے تو کیا واشنگٹن اس کے دفاع کے لیے اسی شدت اور رفتار سے فوجی طاقت استعمال کرے گا؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکی فوجی اڈے خود ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔ اگر امریکا اپنی فوجی تنصیبات کو زیادہ محفوظ مقامات پر منتقل کرتا ہے تو اس سے اس کی خطے میں فوری فوجی ردعمل کی صلاحیت پر بھی بحث ہوسکتی ہے۔

مستقبل کی امریکی حکمتِ عملی کیا ہوسکتی ہے؟
موجودہ صورتحال میں امریکا کے سامنے کئی ممکنہ راستے ہیں۔ ایک راستہ یہ ہے کہ موجودہ فوجی اڈوں کو مزید مضبوط دفاعی نظام، میزائل شکن ٹیکنالوجی اور ڈرون مخالف صلاحیتوں سے لیس کیا جائے۔دوسرا راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ امریکی افواج کو بڑے مستقل اڈوں کے بجائے چھوٹے، زیادہ منتشر اور نسبتاً خفیہ یا محفوظ مقامات پر تعینات کیا جائے۔تیسرا آپشن یہ ہے کہ امریکا خطے میں اپنی مجموعی فوجی موجودگی کم کرکے اتحادی ممالک کو زیادہ دفاعی ذمہ داریاں منتقل کرے۔تاہم ہر آپشن کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔ بڑے اڈے امریکا کو فوری فوجی کارروائی کی صلاحیت دیتے ہیں، لیکن یہی اڈے میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے بڑے اور نسبتاً واضح اہداف بھی بن سکتے ہیں۔