ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق کارروائیوں میں کویت، اردن اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ایرانی میڈیا کے مطابق کویت میں کیمپ عذیری، علی السالم ایئر بیس اور عریفجان سپورٹ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اردن کے موفق السلطی ایئر بیس اور بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر بھی حملوں کا دعویٰ کیا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ بحرین میں امریکی طیاروں کی پارکنگ، ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا۔پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ بوشہر کے قریب ایک امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کو مار گرایا گیا، جبکہ شمالی بحرِ ہند میں ایک امریکی بحری جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی حمایت یافتہ بعض بحری جہازوں کو روکنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔دوسری جانب خطے کے ممالک نے اپنی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ اردن کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد ایرانی میزائلوں کو روک دیا، جبکہ کویت نے بھی میزائل اور ڈرون خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کی تصدیق کی ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران میں فوجی اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعووں کے بعد ایران نے امریکی مفادات اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو ہدف بنانے کی دھمکی دی تھی۔بحرین میں بھی فضائی حملوں کے خدشے کے باعث متعدد مرتبہ سائرن بجائے گئے، جبکہ خلیجی خطے میں فوجی نگرانی اور فضائی دفاعی نظام مزید فعال کر دیے گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس کے اثرات صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل اور خطے کی معاشی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔