بھارتی حکمران جماعت کو بڑی شکست مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کی قرارداد منظور

قرار داد عمر عبداللہ نے پیش کی‘نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، سی پی آئی، اے اے پی اور دیگر جماعتوں نے حمایت کی
مقبوضہ کشمیر کے کسی رکن نے قرارداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا‘حکمران جماعت بی جے پی کے 29 ارکان ووٹنگ سے قبل واک آئوٹ کر گئے
سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کو مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں بڑی سیاسی شکست کا منہ دیکھنا پڑ گیا۔مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کی شدید مخالفت کے باوجود مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق مکمل ریاستی حیثیت کی قرار داد عمر عبداللہ نے پیش کی، جس میں نئی دہلی سے مکمل ریاستی حیثیت فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔قرارداد کی نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، سی پی آئی، اے اے پی اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے مکمل حمایت کی، مقبوضہ کشمیر کے کسی رکن نے قراداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔بی جے پی کے 29 ارکان ووٹنگ سے قبل واک آئوٹ کر گئے، بی جے پی ارکان کی نعرے بازی اور قرارداد کی نقول پھاڑنے کے بعد اسمبلی میں کشمیر کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ مقبوضہ کشمیر اسمبلی نے مبینہ سرکاری دبائواور خطوط کے باوجود ریاستی حیثیت کی قرارداد منظور کی ہے۔میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کشمیری سیاسی جماعتوں کو آرٹیکل 370، 35 اے اور سیاسی حقوق کی بحالی کے لیے متحد ہونا چاہیے۔