افغانستان کے قابلِ قبول اور دوستانہ حل کیلئے مذاکرات کے حامی ہیں‘افغانستان میں امن سے خطے میں استحکام اور ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں:وزیراطلاعات
بار کونسلز کے الیکشنوں اور وکلاء کا نظام ان کا اندرونی معاملہ ہے، کسی سیاسی رہنما یا حکومت کو فتوی دینے کا کوئی حق حاصل نہیں‘ڈگریاں تصدیق شدہ ہیں:وفاقی وزیر قانون
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے افغانستان کے قابلِ قبول اور دوستانہ حل کیلئے مذاکرات کے حامی ہیں، افغانستان میں امن سے خطے میں استحکام اور ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش کا جواب دیا جائے گا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے اسلام آباد میں افغانستان کی صورتحال اور امن کی جانب پیش رفت کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی صورتحال ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے، دیرپا اور پائیدار حل کی ضرورت ہے، پاکستان امن، مذاکرات اور پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لئے متعدد اعلی سطحی وفود افغانستان بھیجے، افغانستان کے مسئلے پر استنبول اور دوحہ میں بھی مذاکرات ہوئے، افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ذمہ دار ریاست کی سوچ اپنانا ہوگی۔دریں اثناء وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں نیشنل فرانزک ایجنسی لیبارٹری کے دورے کے موقع پر تقریب سے خطا ب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا احتجاج سے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے،مذاکرات کیلئے پی ٹی آئی کو متعدد بار مواقع فراہم کیے گئے، لیکن اس طرف سے کوئی مناسب جواب نہیں ملا، بانی پی ٹی آئی کی رہائی عدالتی معاملہ ہے، عدالت سے رجوع کرکے رہا کرا لیں،عمران خان کا طبی معائنہ مکمل ہو چکا، ان کی ہمشیرہ نے خود تصدیق کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی تمام تر لحاظ سے بالکل صحتمند اور تندرست ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نیاسلام آباد میں نیشنل فرانزک ایجنسی لیبارٹری کے دورے کے موقع پر تقریب سے خطا ب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ ملک کے سینئر ترین ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ نے کیا، جس میں یہ طے کرنا تھا کہ ان کی زندگی کو کوئی خطرہ تو لاحق نہیں، عمران خان کی ہمشیرہ جو خود اس میڈیکل بورڈ کے عمل کا حصہ تھیں، انہوں نے خود میڈیا پر آ کر کہا کہ بانی پی ٹی آئی تندرست اور صحتمند ہیں، اگر اب بھی کوئی قانونی کمی بیشی ہے تو وہ معاملہ عدالتوں نے دیکھنا ہے، اسلام آباد پر چڑھائی اور جلسے جلوسوں سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔اعظم نذیر نے کہا کہ اسلام آباد پر بار بار چڑھائی کی گئی، محفوظ پاکستان کیلئے محفوظ دارالحکومت ضروری ہے، پی ٹی آئی کے ماضی کے دھرنوں سے سب واقف ہیں‘انہوں نے کہا بار کونسلز کے الیکشنز اور وکلا کا نظام ان کا اپنا اندرونی معاملہ ہے، کسی سیاسی رہنما یا حکومت کو اس پر فتوی دینے کا کوئی حق حاصل نہیں، رہی بات ڈگریوں کی تو 2020 میں میرے سمیت تمام وکلا کی ڈگریاں پاکستان بار کونسل سے تصدیق شدہ ہیں اور ان کا تمام ریکارڈ موجود ہے، جن لوگوں کے پاس ادھوری معلومات ہیں وہ جا کر ریکارڈ دیکھ لیں اور جنہوں نے غلط الزامات لگائے ہیں وہ یا تو معافی مانگیں یا پھر قانون کے مطابق جرمانہ ادا کریں۔