خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا،صوبائی حکومت کا دہشتگردی کے معاملے پررویہ غیرسنجیدہ رہا، ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ترجیح ہے:وزیرقانون
خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے اقدامات ناگزیر امن و امان کے قیام کیلئے ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے، خیبرپختونخوا کے عوام نے ایمرجنسی کے نفاذ کا خیرمقدم کیا:وزیر اطلاعات
جن علاقوں کو فوج دہشتگردوں سے پاک کرے گی، سول انتظامیہ وہاں کا انتظام سنبھالے گی، دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے کیساتھ کھڑا ہونا ہو گا، ہم پرامید ہیں یہ نظام کافی کام کرلے گا :مشیر سیاسی امور
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا، صدر نے آئین کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی، جدید دور میں ممالک آئینی نظام کے تحت چلائے جاتے ہیں، آئین وہ بنیادی اور فیصلہ کن دستاویز ہے جو درحقیقت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ریاست کو کس طرح چلایا جائے گا‘اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے اعظم نذیر تارڑکا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے، یہ مسئلہ حالیہ دنوں سے شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں افغانستان کی جنگ یا 1970 کے اواخر میں افغانستان پر روسی جارحیت کے دور تک پھیلی ہوئی ہیں ۔وزیر قانون نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کیخلاف یہ جنگ کس بہادری سے لڑی،ماضی قریب میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔جہاں تک دہشت گردی کے واقعات کا تعلق ہے تو اس کی مثال اعداد و شمار سے واضح ہوتی ہے۔تقابلی جائزے کیلئے انہوں نے گزشتہ 6 سالوں کو 2 ادوار میں تقسیم کرتے ہوئے بتایا کہ 2021 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق ریکارڈ کئے گئے واقعات کی تعداد تقریبا 2900 رہی جبکہ 2024 سے 2026 کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 8600 ہوگئی، یوں ان واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا۔اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا دہشتگردی کے معاملے پررویہ غیرسنجیدہ رہا، ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہماری ترجیح ہے‘وفاقی وزیراطلاعات عطاء تارڑ نے کہا خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں،طالبان کے پیش کردہ نظریات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، طالبان ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں خواتین کو تعلیم کا حق نہ دیا جائے۔صوبے میں معدنیات، لکڑی، تمباکو اور قیمتی پتھروں کی تجارت میں اسمگلنگ ہورہی تھی، خیبرپختونخوا کیعوام کو بنیادی سہولیات، تعلیم اور صحت سے محروم رکھا گیا، جنوبی اضلاع میں دہشت گرد غیر رسمی طور پر انتظامی ڈھانچے کا حصہ بنے ہوئے تھے۔وفاق اور صوبے کے درمیان معاہدے پر اتفاق ہوا مگر وزیراعلی نے اسے مسترد کر دیا‘وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کم از کم ایک سال اور 2029تک بھی جا سکتی ہے، امن و امان کیلئے 2029 تک ایمرجنسی مہنگا سودا نہیں ،جن علاقوں کو فوج دہشتگردوں سے پاک کریگی، سول انتظامیہ انہیں ہولڈ کرے گی۔اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گورنر راج،ایمرجنسی کے بعد مینڈیٹ اسمبلی کے پاس چلا جائیگا،ایمرجنسی ہٹ جاتی ہے اور اسمبلی نیا لیڈر آف دی ہائو س منتخب کرے اور وہ دہشتگردی کے خلاف متفق نہیں ہو گا تو ایمرجنسی 10 بار بھی لگانا پڑے تو لگنی چاہیے۔ رانا ثنا اللہ کا کہناتھا کہ پاکستان پہلے ہے یا کسی کا وزیراعلی بننا پہلے ہے؟ آئین کے تحت ایمرجنسی کی مدت بڑھائی جاسکتی ہے، حالات 3 یا 6 مہینے میں ٹھیک ہوجائیں توایمرجنسی آگے نہیں جانی چاہیے، اقتدار میں چاہے پی ٹی آئی ہو،اسے دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے کیساتھ کھڑا ہونا ہو گا، ہم پرامید اور متفق ہیں کہ یہ نظام کافی کام کرلے گا