سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر، مصر اور پاکستان سمیت کئی عرب اور اسلامی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق، ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے امریکی قیادت میں غزہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی تعریف کی اور منصوبے کو خوش آئند قرار دیا۔
منصوبے کے اہم نکات یہ ہیں:
غزہ کی تعمیر نو: فلسطینیوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں گے۔
مغربی کنارے کی صورتحال: منصوبے میں مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔
حماس پر پابندیاں: حماس کو غیر مسلح ہونے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے 72 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔
امن قائم کرنے کے اقدامات: علاقے میں امن قائم رکھنے کے لیے عارضی فوجی تعینات کی جائے گی۔
عارضی اتھارٹی کی تشکیل: امریکی صدر کی قیادت میں عارضی اتھارٹی قائم کی جائے گی، جس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے۔
سعودی قومی پریس ایجنسی (SPA) نے تصدیق کی کہ تمام ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس منصوبے پر اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا ہے، جس کا مقصد غزہ میں جاری تنازع کو ختم کرنا اور پائیدار امن قائم کرنا ہے۔