اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطینیوں کی بے دخلی کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو کے لیے عرب منصوبے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
جدہ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کی۔او آئی سی کے اجلاس میں رکن ممالک نے اتفاق کیا کہ عرب لیگ کی جانب سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے پیش کیے جانے والے منصوبے کی مکمل حمایت کی جائے گی۔ او آئی سی کے سربراہ حسین ابراہیم طحہٰ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کی جبراً نقل مکانی جیسے بیانات کو سختی سے مسترد کیا جاتا ہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اسرائیل کو فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو فوراً بند کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑا ہے۔اس اجلاس سے قبل عرب ممالک کا قاہرہ میں غیر معمولی اجلاس ہوا تھا جس میں مصر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کرنے اور انہیں اپنی سرزمین پر قائم رکھنے کا عہد کیا گیا تھا۔
مصر کا 53 ارب ڈالر کا مجوزہ پانچ سالہ منصوبہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے تھا جس میں لاکھوں مکانات، تجارتی بندرگاہ اور ہوائی اڈے کی تعمیر شامل ہے۔ اس کے علاوہ، فلسطینی علاقوں میں انتخابات کرانے اور دو ریاستی حل کی کوششیں بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اعلان کیا کہ مصر کا یہ منصوبہ اب ایک مکمل عرب منصوبہ بن چکا ہے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر دوسرے ممالک بھیجنے کا منصوبہ پیش کیا تھا اور غزہ کے ساحل کے ساتھ 'ریویرا' بنانے کی تجویز دی تھی، جسے عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔