قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امریکا اور عرب ممالک کے دباؤ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ’غزہ امن منصوبے‘ میں لچک دکھانے پر مجبور کر دیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ستمبر میں اسرائیلی حملوں نے قطر میں غزہ پر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا، جس پر خطے اور واشنگٹن کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ اس واقعے کے بعد عالمی اور خطے کے دباؤ کے تحت اسرائیل نے منصوبے کی کچھ شقوں میں ترامیم کیں۔پاکستان میں اس منصوبے پر مختلف طبقۂ فکر کے لوگ اختلاف رکھتے ہیں، تاہم وزیرِ اعظم شہباز شریف نے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی دستاویز نہیں ہے اور اس میں کچھ اہم نکات شامل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی دباؤ کے باوجود نیتن یاہو نے منصوبے کی کئی شقوں میں ترامیم کروا کر اسرائیل کے حق میں تبدیلیاں کیں، خصوصاً غزہ سے انخلا اور فلسطینی ریاست کے ذکر میں ترامیم۔ عرب ممالک نے ان ترامیم پر ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔
اس پیش رفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں سیاسی اور سفارتی دباؤ غزہ امن منصوبے کی تشکیل اور اس کے اطلاق پر اثرانداز ہو رہا ہے، اور منصوبے کے بعض عناصر پر عرب ممالک اور فلسطینیوں کی مخالفت برقرار ہے۔