نیویارک: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد پر ووٹنگ ہوئی، جس میں 14 ارکان نے حمایت کی تاہم امریکا نے اسے ویٹو کر دیا۔
قرارداد میں کیا مطالبہ تھا؟
پیش کی گئی قرارداد میں درج ذیل نکات شامل تھے:
غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ
خوراک اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی
فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا
اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنا
یہ قرارداد سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل ارکان نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی۔
امریکی مؤقف
امریکا نے قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ:"اسرائیل کی سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے والی کوئی بھی چیز قابل قبول نہیں۔ حماس کو شکست دینا اور اسے دوبارہ خطرہ نہ بننے دینا اسرائیل کا حق ہے۔"
پاکستان سمیت 14 ممالک کی حمایت
قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والوں میں پاکستان سمیت چین، روس، فرانس، الجیریا، موزمبیق، سیرالیون، سلووینیا، ایکواڈور، جاپان، جنوبی کوریا، مالٹا، گیانا اور سوئٹزرلینڈ شامل تھے۔
غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کرگیا
واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں، اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 45 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ خوراک، ادویات اور پانی کی قلت سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
امریکی امدادی تنظیم کی امداد کی معطلی
دوسری جانب ایک امریکی امدادی تنظیم نے غزہ میں امداد کی تقسیم عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ انہوں نے سیکیورٹی اور انتظامی مسائل کو قرار دیا ہے۔ اس فیصلے سے لاکھوں متاثرہ فلسطینیوں کو فوری مدد کی فراہمی مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عالمی برادری کی تشویش
امریکا کی ویٹو کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگ بندی کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے جبکہ فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔