سندھ ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنے والے تین جوڑوں کے کیسز کا تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں عدالتی تحفظ کی فراہمی اور والدین کی جانب سے بچوں کو ہراساں یا تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف واضح ہدایات دی ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر بالغ لڑکا یا لڑکی اپنی مرضی سے شادی کرتے ہیں تو وہ قانونی طور پر یہ حق رکھتے ہیں اور والدین یا کسی بھی دوسرے فرد کو ان پر زبردستی کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس فیصلے کے مطابق، پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کو پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ انہیں کسی بھی قسم کی پریشانی یا تشویش کا سامنا نہ ہو۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر فریقین کے درمیان لڑکی کی عمر کے بارے میں کوئی تنازعہ ہو تو اس مسئلے کو متعلقہ عدالت میں حل کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب سندھ ہائیکورٹ میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کے تحفظ کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں ان کے حقوق کا دفاع کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔یہ فیصلہ والدین کی جانب سے بچوں کو اس معاملے میں دباؤ ڈالنے یا تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف ایک اہم قدم ہے اور اس سے واضح پیغام ملتا ہے کہ بالغ افراد کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق ہے۔