واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہی تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کے مڈٹرم کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے کو ’’ٹرمپ ڈیوڈنڈ‘‘ کا نام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دی جانے والی رقم امریکا کے اندر ہی خرچ کرنا ہوگی۔تاہم صدر ٹرمپ نے اس رقم کی ادائیگی کے لیے تاحال کوئی واضح مالی منصوبہ پیش نہیں کیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بعد ازاں اشارہ دیا کہ ممکنہ طور پر امیر امریکی شہریوں کو اس ادائیگی سے خارج کیا جاسکتا ہے جبکہ رقم کی فراہمی کے لیے محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کی جاسکتی ہے۔تجزیوں کے مطابق اگر تقریباً 24 کروڑ بالغ امریکی شہریوں کو 5 ہزار ڈالر فی کس دیے جائیں تو اس منصوبے پر تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آئے گی۔ تمام بالغ افراد کو شامل کرنے کی صورت میں یہ رقم مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کانگریس کی منظوری بھی ضروری ہوگی۔
امریکا پہلے ہی بڑے بجٹ خسارے اور تقریباً 40 ٹریلین ڈالر کے قومی قرض کا سامنا کررہا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اتنی بڑی رقم کی تقسیم سے حکومتی مالی بوجھ میں اضافہ ہوسکتا ہے اور معیشت میں مہنگائی کے دباؤ کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریپبلکن پارٹی آئندہ وسط مدتی انتخابات میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے انتخابی مہم تیز کررہی ہے۔ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔