غزہ میں امداد کی تقسیم کیسے سانحے میں بدل گئی؟ عرب ٹی وی رپورٹ کے اہم انکشافات

غزہ میں امداد کی تقسیم کیسے سانحے میں بدل گئی؟ عرب ٹی وی رپورٹ کے اہم انکشافات

عرب ٹی وی نے غزہ میں امداد کی تقسیم کے دوران پیش آنے والے ایک المناک واقعے پر تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ شدید غذائی بحران سے نبرد آزما فلسطینیوں کو امداد حاصل کرنے کے دوران جان کے لالے پڑ گئے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اور امریکا کی حمایت یافتہ نئی امدادی تنظیم ’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF)‘ نے غزہ میں محدود تعداد میں امدادی مراکز قائم کیے ہیں تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔ تاہم، ان مراکز تک رسائی بھوکے اور پیاسے عوام کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہوئی۔

شدید گرمی میں ہزاروں فلسطینیوں کو میلوں کا فاصلہ طے کر کے ان امدادی مراکز تک پہنچنا پڑا۔ بھوک اور بے بسی کے شکار شہری جب مراکز کے باہر رکاوٹیں عبور کرنے لگے تو وہاں موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

اقوام متحدہ اور متعدد بین الاقوامی امدادی اداروں نے GHF پر امدادی عمل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور بنیادی انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فاؤنڈیشن کی جانب سے امداد کو محدود، مشروط اور غیر منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی 93 فیصد آبادی اس وقت شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جب کہ علاقہ پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے اس صورتحال کو انسانی تباہی سے تعبیر کر رہے ہیں اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔