غزہ – اقوام متحدہ نے خوراک کی شدید قلت کے شکار غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے لیے کام کرنے والی تنظیم غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کی جانب سے مشترکہ تعاون کی پیشکش مسترد کر دی ہے، جس کے بعد علاقے میں امدادی نظام کی ناکامی اور شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
GHF نے اقوام متحدہ کو پیشکش کی تھی کہ وہ امدادی کاموں کو مؤثر اور منظم انداز میں بڑھانے کے لیے مشترکہ آپریشنز کرے، تاہم اقوام متحدہ نے یہ پیشکش یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ وہ ایسی تنظیموں کے ساتھ کام نہیں کرے گا جن کے اقدامات غزہ کے شہریوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کا مؤقف
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک پریس بریفنگ میں کہا:"ہم صرف ان تنظیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو انسانی ہمدردی کے اصولوں پر کاربند ہوں۔ ان اصولوں میں ایک یہ بھی ہے کہ کوئی ایسا عمل نہ کیا جائے جس سے امداد کے حصول کی کوشش میں لوگوں کو گولی مار دیے جانے یا روندے جانے کا خطرہ پیدا ہو۔"انہوں نے کہا کہ GHF کی خوراک کی تقسیم کا ماڈل شہریوں کو اسرائیلی فوج (IDF) کی لائنز عبور کرنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
GHF کی کارکردگی اور چیلنجز
غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ روزانہ 20 لاکھ سے زائد کھانے تقسیم کر رہی ہے، تاہم ان کا دائرہ کار غزہ کی پٹی کے چند محدود اور مشکل علاقوں تک محدود ہے۔GHF کے فراہم کردہ کھانے میں زیادہ تر خشک خوراک شامل ہے، جنہیں استعمال کے قابل بنانے کے لیے صاف پانی، ایندھن اور پکانے کے آلات درکار ہیں – اور یہ تمام چیزیں غزہ میں نایاب ہو چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کا متبادل نظام
اس کے برعکس اقوام متحدہ کے مطابق وہ غزہ میں 64 کمیونٹی کچنز کے ذریعے اب تک 1 لاکھ 58 ہزار پکے ہوئے کھانے تقسیم کر چکا ہے۔ تاہم دوجارک کے بقول:"غزہ میں خوراک کی قلت کے باعث ہمارے کھانوں کی تقسیم میں بھی کمی آ رہی ہے۔ ہمارا ایک منظم نظام ہے جو کام کر رہا ہے، ہمیں صرف اسے چلانے کی اجازت دی جائے۔ ہمیں مزید منافع بخش تنظیموں کی ضرورت نہیں۔"
اسرائیل کا دعویٰ اور تنازع
اقوام متحدہ کی جانب سے خوراک کی قلت پر دیے گئے بیانات کے بعد اسرائیلی حکام نے کچھ تصاویر جاری کی ہیں جن میں مبینہ طور پر وہ خوراک دکھائی گئی ہے جو غزہ میں پہنچنے کے باوجود اقوام متحدہ کے اداروں کی جانب سے ابھی تک تقسیم نہیں کی گئی۔یہ دعویٰ اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے نظام پر مزید سوالات کھڑے کر رہا ہے۔