بھارت: جہیز کے لالچ میں مبینہ قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دل دہلا دینے والے انکشافات

بھارت: جہیز کے لالچ میں مبینہ قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دل دہلا دینے والے انکشافات

بھارتی ریاست اتر پردیش میں 25 سالہ دیپیکا نگر کی پراسرار موت کے کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دیپیکا نگر کی موت چھت سے گرنے کے باعث نہیں ہوئی بلکہ انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے دماغ میں خون جم چکا تھا جبکہ تلی (اسپلین) پھٹ گئی تھی۔ اس کے علاوہ جسم کے مختلف حصوں پر گہرے زخم، سوجن اور خون کے نشانات پائے گئے ہیں، جو شدید تشدد کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق جسم کے متعدد حصوں جیسے چہرہ، بازو، ران، گھٹنے، سینہ اور پیٹ پر چوٹوں کے نشانات موجود تھے، جبکہ بائیں کان سے خون بہنے اور ہاتھوں پر دباؤ کے آثار بھی پائے گئے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اندرونی معائنے کے دوران دل کے خانے خون سے خالی پائے گئے، جو شدید خون بہنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔مقتولہ کے اہل خانہ کے مطابق دیپیکا کی شادی 17 ماہ قبل رتک تنور سے ہوئی تھی۔

والد نے الزام عائد کیا کہ شادی میں تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ کیے گئے، تاہم سسرال والے مسلسل مزید جہیز کا مطالبہ کر رہے تھے۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سسرال والوں نے ٹویوٹا فورچیونر گاڑی اور 45 سے 50 لاکھ روپے نقد کا مطالبہ بھی کیا تھا۔دیپیکا کے والد کے مطابق واقعے سے چند گھنٹے قبل بیٹی نے فون پر روتے ہوئے تشدد کی شکایت کی تھی، جس کے بعد رات گئے سسرال کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ وہ چھت سے گر گئی ہے۔پولیس نے مقتولہ کے شوہر رتک تنور اور اس کے والد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔