6 لاکھ پودے لگانے کا منصوبہ ٹھس

ریلوے لائنز کے اطراف اور رنگ روڈ کے ساتھ بھی پیش رفت نہ ہو سکی 
لاہور (کرائم رپورٹر) شہر میں درختوں کی تعداد بڑھانے اور ٹری کور میں اضافے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔6 لاکھ درخت لگانے کا منصوبہ مکمل ہوا اور نہ اس پر کوئی عملی پیش رفت دیکھنے کو ملی۔پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی نے پنجاب حکومت کو ایک مکمل شجرکاری پلان جمع کر ایا جس کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فاریسٹری اور دیسی ساخت کے درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا ۔مولانا شوکت علی روڈ، وحدت روڈ، سرکلر روڈ، رنگ روڈ، نشتر ٹائون اور مال روڈ سمیت متعدد مقامات پر زمین کی نشاندہی تو کر لی گئی لیکن درخت کہیں نظر نہیں آئے۔ایونیو ون، رائیونڈ روڈ، لطیف ایونیو، شادیوال روڈ، خیابان فردوسی اور گرین ٹائون جیسے علاقوں میں شجرکاری صرف پلاننگ اور فائل ورک تک محدود رہی۔فیصل ٹائون، نصیر آباد، مسلم ٹائون، نور جہاں روڈ، جھگیاں ناگرا، بابو صابو اور مون مارکیٹ میں کسی قسم کی شجرکاری شروع نہ ہو سکی۔ریلوے لائنز کے اطراف اور رنگ روڈ کے ساتھ واقع زمینوں پر بھی پیش رفت نہ ہو سکی۔ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے نے پی ایچ اے کو شجرکاری کیلئے5کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا،تاہم یہ رقم جاری نہیں کی گئی۔ماحولیاتی آلودگی، سموگ اور درختوں کی کمی جیسے سنگین مسائل کے باوجودشجرکاری کا منصوبہ بھی دیگر حکومتی اعلانات کی طرح کاغذوں کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا۔