تین ماہ قبل منصوبہ شروع کیا گیا موثر آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے
لاہور(کرائم رپورٹر) محکمہ ایکسائز کا پرسنل وینٹی نمبر پلیٹس کا منصوبہ فلاپ ہونے لگا۔ ذاتی و کمپنی ناموں، ذات برادری پر نمبر پلیٹس جاری کرنے کے منصوبے سے مطلوبہ ریونیو ہی نہ جمع ہوسکا۔ تین ماہ قبل منصوبہ شروع کیا گیا۔ تفصیل کے مطابق منصوبے کے آغاز پر ماہانہ کروڑوں روپے جمع ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔گزشتہ سال دسمبر میں پرسنل وینٹی نمبر پلیٹس کا منصوبہ شروع کیا گیا۔پلاٹینم اور گولڈ کیٹیگریز میں نمبروں کو فروخت کیا جا رہا ہے۔نمبروں کی ای آکشن کی جارہی ہے ،موثر آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے منصوبہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکا۔ہر ماہ نیلامی ہونے کے باوجود شہریوں کی پرسنل وینٹی نمبر پلیٹس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی دے رہی۔ اسی طرز کا منصوبہ سندھ میں کامیابی سے جاری ہے جہاں شہری اپنی ذات برادری کمپنی کے ناموں پر نمبر زلینے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں تاہم پنجاب میں محکمہ ایکسائز کی جانب سے بڑے بڑے دعو ئوں کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ مل سکے ۔محکمہ ایکسائز نے روایتی آکشن کرنے کے حوالے سے غور کرنا شروع کردیا۔ یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ ماہانہ ایک فزیکل آکشن کر ائی جائے۔