اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت منسوخ کر دی ہے، جس کے بعد وہ ایف آئی اے کی تحقیقات کے دائرے میں آ گئی ہیں۔
ڈاکٹر فضیلہ عباسی دو مختلف منی لانڈرنگ کیسز میں زیرِ تفتیش ہیں، جن میں ان کے بینک اکاؤنٹس میں غیر معمولی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔معروف اینکر جنید سلیم نے اپنے وی لاگ میں بتایا کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے 22 بینک اکاؤنٹس کے ذریعے تقریباً 25 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایک اکاؤنٹ وہ اپنے بھائی حمزہ علی عباسی اور والدہ کے ساتھ مشترکہ طور پر استعمال کرتی ہیں۔مزید یہ کہ ان کا اسلام آباد میں موجود کلینک رجسٹرڈ نہیں ہے اور ڈرائیورز و دیگر ملازمین کے نام پر چیکس کے ذریعے ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے اپنی سالانہ آمدن صرف 4 سے 6 لاکھ روپے ظاہر کی، جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہو رہی تھیں۔اس کیس سے متعلق تفتیش ابھی جاری ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی اور تفصیلی آڈٹ متوقع ہے، جو ممکنہ طور پر بڑے مالی اور قانونی نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔