جیکولین فرنینڈس کی منی لانڈرنگ کیس میں درخواست، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

جیکولین فرنینڈس کی منی لانڈرنگ کیس میں درخواست، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

​بالی وڈ اداکارہ جیکولین فرنینڈس نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کی جانب سے دائر منی لانڈرنگ کیس کو چیلنج کیا تھا۔

 یہ کیس مبینہ طور پر جیل میں قید ان کے دوست سکیش چندرشیکھر سے قیمتی تحائف وصول کرنے سے متعلق ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔​جیکولین کے وکیل، سینئر ایڈووکیٹ سدھارتھ اگروال نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ کو سکیش چندرشیکھر کی مجرمانہ سرگرمیوں کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور وہ صرف ایک اخبار کی رپورٹ کی بنیاد پر اس کیس میں ملوث کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ED نے اداکارہ نورا فتیحی کو اس کیس میں شامل نہیں کیا حالانکہ ان کے اہل خانہ کو بھی تحائف ملے تھے۔ جیکولین کے وکیل کا کہنا تھا کہ ED نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی موکلہ کو ملزم بنایا ہے۔​

دوسری جانب، ED کے وکیل زوہیب حسین نے عدالت میں کہا کہ چونکہ خصوصی عدالت نے پہلے ہی مقدمے کی سماعت کا آغاز کر دیا ہے، اس لیے جیکولین کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیکولین کو تحائف کی مالیت 7.12 کروڑ روپے سے زائد ہے اور ان کی بہن کو بھی رقم منتقل کی گئی تھی۔​عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور کیس کی اگلی سماعت 29 جنوری 2024 کو مقرر کی ہے۔​