200 کروڑ روپے منی لانڈرنگ کیس: جیکولین فرنینڈس کے خلاف عدالت کا بڑا فیصلہ

200 کروڑ روپے منی لانڈرنگ کیس: جیکولین فرنینڈس کے خلاف عدالت کا بڑا فیصلہ

بھارتی اداکارہ جیکولین فرنینڈس کے خلاف ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے، کیونکہ 200 کروڑ بھارتی روپے کے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے ان کے خلاف الزامات عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

 یہ کیس مبینہ طور پر معروف ٹھگ اور جرائم پیشہ فرد سکیش چندر شیکھر اور اس کے نیٹ ورک سے جُڑا ہوا ہے، جنہوں نے بھتہ خوری اور غیر قانونی طریقوں سے رقم حاصل کی تھی۔ جیکولین کا نام بھی اس کیس میں طویل عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے۔پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے ہفتہ کو اس مقدمے میں سکیش چندر شیکھر، اس کی بیوی لینا ماریا پال، اور دیگر ملزمان کے ساتھ ساتھ جیکولین فرنینڈس کے خلاف بھی فردِ جرم عائد کرنے کی منظوری دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج پرشانت شرما نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تمام افراد قانون کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد رکھتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سکیش چندر شیکھر، لینا ماریا پال، اور دیگر کے ساتھ جیکولین فرنینڈس کے خلاف انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (PMLA) کی دفعات 3 اور 4 کے تحت الزام عائد کیے جائیں گے۔عدالت نے تمام ملزمان کو 3 جون کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کیونکہ جیکولین فرنینڈس کا نام گزشتہ کئی برسوں سے اس کیس سے جُڑا رہا ہے۔ اگرچہ انہیں مکوکا (MCOCA) قانون کے تحت ملزم قرار نہیں دیا گیا، مگر ان کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے تحقیقات جاری رکھی ہیں۔
ای ڈی کا الزام ہے کہ جیکولین فرنینڈس نے جان بوجھ کر مہنگے تحائف وصول کیے جو کہ مبینہ طور پر سکیش چندر شیکھر کی غیر قانونی آمدن اور بھتہ خوری سے حاصل رقم سے خریدے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اداکارہ کو کروڑوں روپے مالیت کے تحائف دیے گئے، جن کا تعلق اس مالیاتی نیٹ ورک سے تھا۔ تاہم، جیکولین مسلسل اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو رد کرتی آئی ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ اس کیس سے لاعلم تھیں اور ان کا کوئی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ای ڈی نے 17 اگست 2022 کو اس کیس میں جیکولین کا نام شامل کیا، اور بعد میں ان پر تقریباً 5.71 کروڑ روپے کے تحائف وصول کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ اداکارہ کا موقف ہے کہ وہ اس دھوکے اور دھوکہ دہی کا شکار ہوئیں اور ان کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اب عدالت کے اس فیصلے کے بعد، یہ کیس ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں آئندہ سماعتوں میں الزامات اور شواہد کا مزید تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ یہ مقدمہ بھارتی قانون کے تحت ایک اہم اور حساس کیس ہے، اور اس کی مزید سماعت کا انتظار ہے۔