آسٹریلیا نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس میں بڑی کمی کا اعلان کیا ہے۔
یہ اقدام خاص طور پر عالمی توانائی کی مارکیٹ میں کشیدگی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر لیا گیا ہے، جس میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تنازعات بھی شامل ہیں۔
ٹیکس میں کمی:فیول ایکسائز (ٹیکس) کو تقریباً نصف کیا گیا ہے۔اس کا اثر فی لیٹر ایندھن پر 26.3 سینٹ (تقریباً 0.18 ڈالر) کی کمی کی صورت میں آئے گا۔
نافذ ہونے کی تاریخ:یہ فیصلہ آئندہ بدھ سے نافذ العمل ہوگا۔کم از کم چار ماہ تک یہ رعایت برقرار رہے گی۔
عوام پر اثر:65 لیٹر کے فیول ٹینک پر تقریباً 19 آسٹریلوی ڈالر (13 امریکی ڈالر) کی بچت متوقع ہے۔حکومت نے اسے بروقت، عارضی اور ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا ہے تاکہ شہریوں کو مہنگائی کے اثرات سے نجات مل سکے۔
بین الاقوامی پس منظر:عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
ایران، امریکا اور اسرائیل کے تنازعات کے سبب توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ یہ اقدام عالمی توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مقامی مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر لیا گیا۔
حکومتی بیان:وزیرِاعظم انتھونی البانیز: "ہم ایندھن سستا کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ آسٹریلوی شہری شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔"
وزیر خزانہ جم چامرس: "یہ اقدام عوام کے لیے خاطر خواہ ریلیف فراہم کرے گا اور مہنگائی کے اثرات کو کم کرے گا۔"یہ اقدام ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں عارضی کمی لا کر عوام کی جیب پر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش ہے۔