حکومت نے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام پر پیٹرول بم گرا دیا، پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

حکومت نے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام پر پیٹرول بم گرا دیا، پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

مالی سال 2025-26 کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور وار کر دیا، جب رات گئے اچانک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا گیا۔

 وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، یکم جولائی 2025 سے نئی قیمتوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔

 نئی قیمتیں کیا ہیں؟
پیٹرول 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو کر
 266 روپے 79 پیسے ہو گیا
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے کا اضافہ
 نئی قیمت 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر
 عوامی ردعمل: "پیٹرول بم سے چیخیں نکل گئیں"
قیمتوں کے اعلان کے فوری بعد شہریوں نے شدید ردعمل دیا:

"پہلے ہی مہنگائی برداشت سے باہر ہے، اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئیں، حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔"
شہریوں کا کہنا تھا کہ:

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کا مطلب ہے کہ ہر شے مہنگی ہو جائے گی
ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس سب متاثر ہوں گے
یہ اضافہ غریب عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے
متعدد شہریوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 پیٹرول پمپس پر صورتحال
نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت نئی قیمتوں پر جاری ہے۔
کئی شہروں میں رات گئے لمبی قطاریں بھی دیکھی گئیں، جہاں شہریوں نے قیمتیں بڑھنے سے قبل ٹینک فل کروانے کی کوشش کی۔

 معاشی تجزیہ: کیوں مہنگا ہوا پیٹرول؟
اقتصادی ماہرین کے مطابق:

حکومت نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو بنیاد بنایا
ساتھ ہی پیٹرول پر کاربن لیوی اور پیٹرولیم لیوی میں رد و بدل کیا گیا
تاہم یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خام تیل کی قیمتیں اب کم ہو چکی ہیں، لیکن حکومت نے قیمتیں بڑھا کر ریونیو بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی ہے
 حکومت کا مؤقف: 15 دن بعد ممکنہ ریلیف
وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ:

"موجودہ قیمتوں میں عالمی حالات کے باعث عارضی اضافہ کیا گیا ہے، اگلے 15 روز میں اگر عالمی منڈی مستحکم رہی تو عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔"
 خلاصہ: عوام کا بوجھ مزید بڑھ گیا
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
جہاں حکومت ریونیو بڑھانے کی کوشش میں ہے، وہیں عوام کو ریلیف دینے کے دعوے خالی وعدے نظر آ رہے ہیں۔