عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی :شہباز شریف
حکومتی فیصلوں کی بدولت ملکی ضروریات کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے، عوام بچت مہم میں حکومت کا ساتھ دیں اور غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں، دفاتر و کام کی جگہوں پر ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے
وزیر اعظم نے سعودی وزیر خارجہ کا پرتپاک استقبال کیا ، خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے بھی نیک خواہشات کا پیغام دیا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت ملکی ضروریات کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے۔اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ صورتحال میں عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی اور جس قدر ممکن ہوسکا گزشتہ تین ہفتوں میں عوام کو ریلیف فراہم کیا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت ملکی ضروریات کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے 125 ارب روپے دیے، وفاقی حکومت نے یہ رقم مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی۔انہوں نے کہا کہ عوام بچت مہم میں حکومت کا ساتھ دیں اور غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں۔سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے وزیرِاعظم ہاؤس میں شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں خطے میں قیام امن کے حوالے سے بات کی گئی۔ مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے اسلام آباد کی میزبانی میں چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس ہوا جس میں شرکت کے بعد سعودی عرب کے وزیر خارجہ وزیرِ اعظم ہاؤس پہنچے۔ سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی آمد پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ سید طارق فاطمی نے ان کا استقبال کیا بعدازاں وزیراعظم نے اپنے دفتر میں آمد پر سعودی وزیر خارجہ کا خیرمقدم کیا۔وزیر اعظم کی سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی جس میں وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، مشیر برائے قومی سلامتی و ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل محمد عاصم ملک بھی موجود تھے۔سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ وزیر اعظم نے سعودی وزیر خارجہ کا پرتپاک استقبال کیا اور خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنے پرتپاک نیک تمناؤں کا اظہار کیا جبکہ ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات کا پیغام دیا۔پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے موجودہ بحران کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اختیار کردہ غیر معمولی تحمل کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں ولی عہد کے ساتھ اپنی گفتگوؤں کا حوالہ دیا، جن میں 12 مارچ کو جدہ میں ہونے والی ملاقات بھی شامل ہے۔انہوں نے سعودی وزیر خارجہ کو موجودہ بحران کے دوران پاکستان کی وسیع سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا جن میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا و ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں شامل ہیں۔مسلم امہ میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس نازک وقت میں اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔سعودی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خطے کی صورتحال پر سعودی عرب کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں اور قریبی رابطے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔