متعدد ممالک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں:اسحاق ڈار خلیجی ممالک شامل ہو سکتے ہیں:خواجہ آصف
دوسرے ممالک سے معاہدے بارے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی حمایت بڑی اہم تھی، ہر مسلمان تو ویسے بھی حرمین شریفین پر قربان ہونے کیلئے تیار ہوتا ہے:اسحاق ڈار
معاہدے کی کوئی خفیہ شرائط نہیں‘ معاہدے کے تحت پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں سعودی عرب کے لئے بھی کسی بھی ممکنہ صورتحال میں مدد گار ہوں گی:وزیردفاع کا الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو
لندن‘اسلام آباد(آئی این پی)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے سعودی عرب سے معاہدہ ایک رات میں طے نہیں پاگیا اس میں کئی ماہ لگے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتہ کو ہونے والے کنونشن کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے دورہ کیا۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ بلا ضابطہ طور پر ہمیشہ سے موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک بھی ایسے معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن اس بارے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، وہ بھی اس معاہدے سے خوش ہیں ۔اسحاق ڈار نے کہا پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی حمایت بڑی اہم تھی، ہر مسلمان تو ویسے بھی حرمین شریفین پر قربان ہونے کیلئے تیار ہوتا ہے۔دریں اثناء وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کے بعد ممکنہ طور پر دوسرے خلیجی ممالک بھی ایسا معاہدہ کرنا چاہیں گے،معاہدے کی کوئی خفیہ شرائط نہیں۔الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا پاکستان اور سعودی عرب کے مابین سکیورٹی معاہدے کے بعد اور خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے فطری طور پر اس کا دائرہ کار دوسرے ممالک تک بھی بڑھے گا کیونکہ اپنی سکیورٹی کیلئے یہ ممالک میلوں دور کسی دوسرے ملک پر انحصار کرنے کے بجائے اس خودمختار ملک کی جانب دیکھیں گے جو انہیں تحفظ دینے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہو۔دوسرے خلیجی ممالک کی شمولیت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے مزید کہا کہ یہ ممکن ہے اگر جی سی سی میں شامل کوئی بھی ملک ایسا کوئی اشارہ دیتا ہے تو جیسا باہمی معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ ہوا ہے ہم باقی ممالک کو بھی اس میں شامل کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ وزیرِِ دفاع نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کے لئے بھی کسی بھی ممکنہ صورتحال میں مدد گار ہوں گی لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں آخری بار جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہیروشیما پر ہوا تھا اور خوش قسمتی سے اب دنیا نیوکلئیر جنگوں سے محفوظ ہے اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی ایسا کچھ نہیں ہو گا۔