ایران اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطے میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، امریکا اور ایران کے درمیان مبینہ مفاہمتی یادداشت اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس گفتگو میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور فرانسیسی وزیرِ خارجہ جین نول بیروٹ نے موجودہ علاقائی کشیدگی اور عالمی سفارتی ماحول پر بات کی۔گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مبینہ مفاہمتی یادداشت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اس میں خاص طور پر جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں اور خطے میں سکیورٹی صورتحال جیسے معاملات پر تبادلۂ خیال شامل تھا۔ذرائع کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ نے گفتگو میں اس مؤقف کو دہرایا کہ ایران کسی بھی معاہدے یا فریم ورک کو اس وقت تک حتمی شکل نہیں دے سکتا جب تک اس میں ملک کے قومی مفادات اور خودمختاری کا مکمل تحفظ یقینی نہ بنایا جائے۔
دوسری جانب فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ سیاسی پیش رفت کی حمایت کرتے ہیں بشرطیکہ وہ بین الاقوامی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ کے اصولوں کے مطابق ہو۔گفتگو میں یہ بھی زیرِ بحث آیا کہ آئندہ دنوں میں مزید سفارتی رابطے جاری رکھے جائیں تاکہ کسی ممکنہ وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں اور مختلف عالمی طاقتیں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک نظر آ رہی ہیں۔