ترک و ایرانی صدور کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں کشیدگی پر تبادلۂ خیال

ترک و ایرانی صدور کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں کشیدگی پر تبادلۂ خیال

ترک صدر رجب طیب اردوان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطے میں خطے میں بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اہم امور پر بات ہوئی۔

ترک صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے کہا کہ ترکی ایران کے درمیان سفارتی روابط مضبوط کرنے اور امریکا کے ساتھ مسائل کے حل میں سہولتکار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور جارحانہ اقدامات سے گریز کرنا نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی سطح پر امن کے فروغ میں بھی مددگار ہوگا۔اسی دوران ایرانی صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی سفارتی عمل کی کامیابی خطے میں دھمکی آمیز اور جارحانہ رویوں کے خاتمے پر منحصر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقے میں پائیدار امن کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا لازم ہے۔

ایران اور ترکی کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی اور امریکا کے اثرات کے باعث خطے میں استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ترکی اور ایران نے اس ملاقات میں علاقائی امن کے لیے تعاون اور سفارتی چینلز کو فعال رکھنے پر اتفاق کیا۔ایرانی وزیر خارجہ بھی اس دوران استنبول میں موجود تھے تاکہ اعلیٰ سطح بات چیت کو سہولت فراہم کی جا سکے اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں متوازن حکمت عملی اپنائی جا سکے۔