نیویارک: امریکا کی وفاقی عدالت نے خود ساختہ جلاوطن چینی ارب پتی اور کاروباری شخصیت گو وینگوئی کو بڑے مالیاتی فراڈ اور منی لانڈرنگ کے مقدمے میں 30 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں جج اینالیسا ٹوریس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ گو وینگوئی نے دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد سرمایہ کاروں کو جھوٹے وعدوں کے ذریعے دھوکا دیا اور ان سے کروڑوں ڈالر وصول کیے، جنہیں اپنی شاہانہ طرزِ زندگی پر خرچ کیا گیا۔عدالت نے ان کے تقریباً 889 ملین ڈالر کے اثاثے ضبط کرنے اور متاثرہ افراد کو ادائیگی کا بھی حکم دیا۔استغاثہ کے مطابق گو وینگوئی نے 2018 سے 2023 کے دوران سرمایہ کاروں کو بڑے منافع کے جھوٹے وعدے کر کے بھاری رقوم حاصل کیں، جس سے سینکڑوں افراد مالی اور نفسیاتی طور پر متاثر ہوئے۔2024 میں جیوری نے انہیں مالیاتی فراڈ، سیکیورٹیز قوانین کی خلاف ورزی، وائر فراڈ اور منی لانڈرنگ سمیت متعدد الزامات میں مجرم قرار دیا تھا، جبکہ انہیں 2023 میں ایف بی آئی نے مین ہٹن میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔
سزا سناتے ہوئے جج نے متاثرین کے خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعدد افراد نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کھو دی، جبکہ کئی خاندان شدید ذہنی دباؤ اور مسائل کا شکار ہوئے۔گو وینگوئی نے عدالت میں صحت کے مسائل اور سیاسی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ امریکا میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی مخالفت کے لیے آئے تھے، تاہم انہوں نے فراڈ کے الزامات قبول نہیں کیے۔ان کے وکلا نے موقف اپنایا کہ گو وینگوئی سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہیں، جبکہ وہ چینی حکومت کے ناقد اور جمہوریت کے حامی رہے ہیں۔