ویب ڈیسک: سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں اپنی بریت کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔
اس معاملے پر سماعت سپیشل سینٹرل کورٹ لاہور میں ہوئی، جس میں عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 28 مئی تک جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف:
پرویز الٰہی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ:ان کے مؤکل، مونس الٰہی اور محمد جبران خان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا۔ان پر کرپشن کے پیسے کو منی لانڈرنگ کے ذریعے سفید کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔وکیل نے کہا کہ یہ الزامات مفروضوں پر مبنی ہیں، ان کے پیچھے کوئی ٹھوس ثبوت یا شواہد موجود نہیں۔مزید کہا گیا کہ پراسیکیوشن نے غیر مصدقہ دستاویزات پر انحصار کیا ہے اور درخواست گزار کو جھوٹے الزامات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔
وکیل کی استدعا:
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ:"چوہدری پرویز الٰہی کو انصاف کے تقاضوں کے تحت بری کیا جائے کیونکہ ان کے خلاف کوئی قابل اعتماد شواہد موجود نہیں ہیں۔"
عدالت کا ردعمل:
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 28 مئی کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پس منظر:
پرویز الٰہی حالیہ مہینوں میں مختلف مقدمات میں نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں، اور یہ کیس ان کے خلاف جاری سیاسی و قانونی دباؤ کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔