بھارت کے معروف بزنس مین انل امبانی کے لیے قانونی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ان پر پہلے سے بڑے بینک فراڈ کے مقدمات چل رہے ہیں، اور اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کے تحت ایک اور کیس درج کر لیا ہے۔
منی لانڈرنگ کیس کی تفصیلات
ای ڈی نے ریلائنس کمیونیکیشن اور انل امبانی کے خلاف پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کے تحت تحقیقات شروع کی ہیں۔ یہ کارروائی سٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کی ممبئی برانچ کی ڈی جی ایم جیوتی کمار کی شکایت پر کی گئی، جو انہوں نے 18 اگست کو ای ڈی کے پاس درج کرائی تھی۔ذرائع کے مطابق، یہ معاملہ اکتوبر 2020 میں ایک فارینسک آڈیٹر کی رپورٹ سے سامنے آیا۔
بینک فراڈ اور تحقیقات
سی بی آئی نے پہلے ہی ریلائنس کمیونیکیشن پر 17,000 کروڑ روپے کے بینک فراڈ کا کیس درج کیا تھا۔سٹیٹ بینک کے مطابق اس فراڈ سے بینک کو تقریباً 2,929 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔سی بی آئی نے 23 اگست کو ان کے دفتر اور گھر پر چھاپے مارے اور انل امبانی سے دس گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی۔ ان کا بیان ویڈیوگراف کیا گیا اور دوبارہ طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
امبانی کا ردعمل
انل امبانی نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ:یہ شکایات تقریباً 10 سال پرانی ہیں۔اس وقت وہ ریلائنس کمیونیکیشن کے نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تھے اور کمپنی کے روز مرہ انتظامات میں ان کا کوئی براہِ راست کردار نہیں تھا۔ان کے ترجمان نے واضح کیا کہ ان پر سیاسی یا کاروباری نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ای ڈی کی تحقیقات
ای ڈی نے اب تک 3 مختلف معاملوں میں انل امبانی اور ان کی کمپنیوں کی مبینہ دھوکہ دہی کی تحقیقات کی ہیں۔18 اگست کو ای ڈی نے ریلائنس گروپ کے کئی سینئر افسران سے پوچھ تاچھ کی اور 20 سے زائد بینکوں کو خطوط بھیجے تاکہ قرضوں اور کریڈٹ کی تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔9 ستمبر کو ان کے سابق قریبی ساتھی امیتابھ جھنجھن والا سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی، جو پہلے تحقیقات کے دوران ایجنسی کے سامنے آ چکے ہیں۔