جامع قومی زرعی پالیسی بنائی جائے شہبازشریف
زرعی شعبہ پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بہتربیج، جدید زرعی ٹیکنالوجی، پانی،کھاد کی بروقت اور مناسب فراہمی سے فی ایکڑ پیداوار بڑھے گی:اجلاس میں گفتگو
سینیٹ وفاقی اکائیوں کو مساوی نمائندگی دے کر پاکستان کے وفاقی کردار کو مزید مضبوط بناتا ہے‘ آئین پاکستان جمہوری نظام حکومت اور جمہوری اقدار کی ضمانت دیتا ہے:عالمی یوم پارلیمان پر پیغام
اسلام آباد (آئی این پی‘آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی تنظیم نو،زرعی شعبے میں اصلاحات سے متعلق جائزہ لیا گیا ، وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں کی مشاورت سے جامع قومی زرعی پالیسی جلد از جلد مرتب کی جائیگی۔وزیراعظم نے کہا پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کو صحیح معنوں میں زرعی تحقیق کا مرکز بنایا جائے ،زرعی شعبہ پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بہتربیج، جدید زرعی ٹیکنالوجی، پانی،کھاد کی بروقت اور مناسب فراہمی سے فی ایکڑ پیداوار بڑھے گی۔ زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن، بہتر ویئرہاسنگ اور جدید ذخیرہ سازی کے نظام پر توجہ دی جائے۔وزیراعظم شہبازشریف نے زرعی شعبے میں ایپکس فورم قائم کرنے کی ہدایت کی ، فورم ایگریکلچرانوویشن اور گروتھ پلان پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے سے متعلق ماہانہ اجلاس کرے گا۔ شہبازشریف نے کہا کہ زرخیزی-ای زرعی قرضے پروگرام سے متعلق ملک گیرآگاہی مہم شروع کی جائے۔ کسانوں کو آسان زرعی قرضوں تک رسائی مزید بہتر بنایا جا سکے۔دریں اثناء عالمی یوم پارلیمان پر پیغام میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے سینیٹ وفاقی اکائیوں کو مساوی نمائندگی دے کر پاکستان کے وفاقی کردار کو مزید مضبوط بناتا ہے‘پارلیمان کا عالمی دن,جمہوری ریاستوں کو مشترکہ طور پر جمہوریت کے نمائندہ اداروں، آئین کی بالادستی، پارلیمان کی مرکزی حیثیت، جمہوریت، شفافیت، جوابدہی، قانون کی حکمرانی اور طرزِ حکمرانی میں عوامی شرکت کے اصولوں کو مزید مضبوط بنانے کا تجدید عزم کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آئین پاکستان جمہوری نظام حکومت اور جمہوری اقدار کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کی اصل روح کیمطابق اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں اور منتخب نمائندگان یہ اختیار عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے ایک مقدس امانت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ شہبازشریف نے کہا پارلیمان وہ آئینی فورم ہے جہاں قومی مسائل پر عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے قوانین وضع کیے جاتے ہیں۔ قومی وسائل کے استعمال کی نگرانی کی جاتی ہے اور انکا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے۔ شہبازشریف نے کہا تمام طبقات اور گروہوں کی جامع شمولیت اور مؤثر نمائندگی کے تناظر میں بھی پاکستان کی پارلیمانی جمہوریت نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایک حقیقی نمائندہ پارلیمان کے طور پر خواتین، اقلیتوں، چھوٹے صوبوں اور دیگر محروم طبقات کی آواز کو بھی مؤثر انداز میں شامل کیا گیا ہے۔ تمام طبقات کی شمولیت کی آئینی ضمانت دی گی ہے۔تاکہ جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خواتین اور غیر مسلم شہریوں کے لیے مخصوص نشستیں اسی آئینی عزم کا مظہر ہیں۔ شہبازشریف نے کہا سینیٹ وفاقی اکائیوں کو مساوی نمائندگی دے کر پاکستان کے وفاقی کردار کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ شفافیت، عوامی رسائی اور جدید پارلیمانی طرزِ عمل، جمہوریت شفافیت، معلومات تک رسائی اور عوامی شمولیت کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان کی پارلیمان نے قانون سازی، پارلیمانی مباحث، کمیٹی رپورٹس اور دیگر دستاویزات کو عوامی دسترس میں لا کر اس سمت میں اہم اقدامات کیے ہیں۔پاکستان کی پارلیمان بین الاقوامی پارلیمانی سفارت کاری میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ بین الپارلیمانی یونین، پارلیمانی فرینڈشپ گروپس اور دیگر بین الاقوامی فورمز میں شرکت کے ذریعے پاکستان عالمی امن، مکالمے، پائیدار ترقی، انسانی حقوق، صنفی مساوات اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔