خیبرپختونخوا میں 25 جون سے جاری بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔
یہ تفصیلات پرووینشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں سامنے آئیں۔
ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیل
پی ڈی ایم اے کے مطابق:
جاں بحق ہونے والوں میں 7 مرد، 5 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں
زخمیوں میں 6 مرد، 4 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے
رہائشی نقصانات
رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں:
64 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا
11 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں
متاثرہ خاندانوں کو امدادی سامان اور عارضی رہائش کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے
سوات سب سے زیادہ متاثر ضلع قرار
قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع سوات رہا، جہاں:
14 افراد جاں بحق ہوئے
6 افراد زخمی ہوئے
متعدد علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں
پی ڈی ایم اے کا مؤقف
پی ڈی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ:"متاثرہ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، اور دیگر ادارے مکمل الرٹ پر ہیں، جبکہ متاثرین کو امدادی سامان، ٹینٹس، خیمے، اور راشن کی فراہمی جاری ہے۔"
مزید بارشوں کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں آئندہ دنوں میں مزید بارشوں اور طغیانی کا امکان ہے، جس کے باعث مقامی انتظامیہ کو مزید الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
تجزیہ
خیبرپختونخوا، جو قدرتی حسن اور پہاڑی خطوں کی وجہ سے مشہور ہے، حالیہ شدید موسمی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہی ہیں بلکہ انفراسٹرکچر، زراعت اور مقامی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔