سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک سٹی کے ممکنہ میئر زہران ممدانی کے خلاف سخت لب و لہجہ اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے "درست اقدامات" نہ کیے تو وہ بطور صدر نیویارک شہر کی وفاقی فنڈنگ روک دیں گے۔
فاکس نیوز پر دھواں دار انٹرویو
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا:
"اگر وہ (زہران ممدانی) میئر منتخب ہوتے ہیں، تو میں اُن سے جواب طلبی کروں گا۔ اگر اُن کے فیصلے میرے معیار پر پورے نہ اترے، تو نیویارک کو ایک پائی بھی نہیں ملے گی۔"
زہران پر کمیونسٹ ہونے کا الزام
ٹرمپ نے نہ صرف زہران کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ انھیں "کمیونسٹ" قرار دیتے ہوئے کہا:
"یہ نیویارک کے لیے تباہ کن ہو گا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہاں ایک کمیونسٹ آ جائے گا، مگر اب ہمارے سامنے ایک آ رہا ہے۔"
زہران ممدانی کون ہیں؟
زہران ممدانی ایک مسلم امریکی سیاستدان ہیں
فلسطینی عوام کے کھلے حامی اور اسرائیلی پالیسیوں کے نقاد سمجھے جاتے ہیں
وہ تنظیم "اسٹوڈنٹس فار جسٹس ان فلسطین" کے بانی ارکان میں شامل رہے
2023 میں انہوں نے غزہ جنگ بندی کے حق میں وائٹ ہاؤس کے باہر بھوک ہڑتال بھی کی تھی
حالیہ پرائمری انتخابات میں انہوں نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا
مسلم کمیونٹی میں جوش و خروش
زہران ممدانی کی کامیابی کو امریکہ میں مسلم کمیونٹی کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ ممکنہ طور پر نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان میئر بننے جا رہے ہیں۔
ٹرمپ کی دھمکیاں نئی نہیں
ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی متعدد بار مختلف ریاستوں، یونیورسٹیوں اور حکام کو فنڈنگ بند کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، اگر وہ ان کی پالیسیوں سے انحراف کریں۔
تجزیہ:
ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو ناقدین انتخابی سیاست اور اسلامو فوبیا کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، جب کہ زہران کے حامیوں کا کہنا ہے کہ:
"یہ حملے اُن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اصولی مؤقف کا ثبوت ہیں۔"
یہ سیاسی معرکہ امریکہ میں اقلیتوں، آزادی اظہار، اور فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کے لیے ایک نئی آزمائش کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔