ٹرمپ کی دھمکیاں: ظہران ممدانی نے گرفتاری اور شہریت منسوخی کا خدشہ ظاہر کر دیا

ٹرمپ کی دھمکیاں: ظہران ممدانی نے گرفتاری اور شہریت منسوخی کا خدشہ ظاہر کر دیا

نیویارک کی میئرشپ کے امیدوار اور ڈیموکریٹ پارٹی کے متحرک رہنما ظہران ممدانی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں انہوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ انہیں گرفتاری، ملک بدر کرنے اور امریکی شہریت ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ظہران ممدانی کا مؤقف:
ظہران ممدانی کا کہنا تھا کہ یہ دھمکیاں اس لیے دی جا رہی ہیں تاکہ:"عوام کی توجہ اُن پالیسیوں سے ہٹائی جا سکے جو صدر ٹرمپ نے محنت کش طبقے کے خلاف متعارف کروائیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ:"میں ان دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔ میں نیویارک کے اُن شہریوں کے حق میں آواز بلند کرتا رہوں گا جو مہنگائی، کرائے کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی مسائل کے باعث شہر چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔"
ظہران نے الزام لگایا کہ:صدر ٹرمپ نہیں چاہتے کہ وہ عوامی مسائل پر بات کریں.مہنگائی کم کرنے کے وعدے پورے نہ کرنے کی وجہ سے وہ اب توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں
یہ حملے ان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر کیے جا رہے ہیں
ٹرمپ کا ردعمل:
دوسری جانب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ظہران ممدانی کو متنبہ کیا کہ:"اگر انہوں نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں کو ان کے فرائض انجام دینے سے روکا تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔"صدر ٹرمپ نے ظہران ممدانی کے حمایتیوں کو "پاگل" قرار دیتے ہوئے ان کی مخالفت میں سخت زبان استعمال کی۔

سیاسی تجزیہ:
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازعہ نیویارک کی آئندہ بلدیاتی سیاست کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ظہران ممدانی کی مقبولیت کم آمدنی والے طبقات میں بڑھ رہی ہے۔ ان کے حق میں ہونے والی سرگرمیوں میں نوجوانوں، تارکین وطن اور اقلیتوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔

پس منظر:
ظہران ممدانی ایک یوگنڈا نژاد امریکی مسلم سیاستدان ہیں جو نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ وہ نیویارک میں سوشلسٹ پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں اور کرایوں میں کنٹرول، صحت کی سہولیات اور امیگریشن اصلاحات کے لیے سرگرم ہیں۔