ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا ہوگا، ورنہ نتائج سنگین ہوں گے: ٹرمپ

ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا ہوگا، ورنہ نتائج سنگین ہوں گے: ٹرمپ

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خصوصی انٹرویو میں ایران کے ایٹمی پروگرام، علاقائی صورتحال اور مستقبل کے ممکنہ معاہدوں پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے دوبارہ ایٹمی طاقت کے حصول کی کوشش کی تو یہ اس کا "آخری اقدام" ہو گا۔

اقتصادی پابندیوں میں نرمی کا عندیہ:
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران امن کے راستے کا انتخاب کرتا ہے تو امریکہ اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو اپنے عزائم اور رویے میں بنیادی تبدیلی لانا ہو گی۔

خامنہ ای پر تنقید:
ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے ایٹمی پروگرام کو ترجیح دے رہے ہیں، جو کہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ایران کے جوہری عزائم پر تبصرہ:
سابق صدر کا دعویٰ تھا کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کو ایٹمی طاقت بننے کے قریب پہنچنے سے روک دیا۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری عزائم کو روکنا صرف امریکہ ہی نہیں، بلکہ پوری عالمی برادری کی ذمہ داری ہے، اور امریکہ اس مشن میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ابراہم معاہدے کا حوالہ:
ٹرمپ نے ابراہم اکارڈز (Abraham Accords) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی ممالک پہلے ہی اس میں شامل ہو چکے ہیں اور دیگر بھی شمولیت کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو بھی اس معاہدے میں شامل ہو کر علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

خطے میں کشیدگی کے تناظر میں بیان:
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ عالمی امن کے لیے ایران کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا، ورنہ اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔