ولادیمیر پیوٹن کی ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت وارننگ، ایران پر حملے کے سنگین نتائج سے آگاہ کیا

ولادیمیر پیوٹن کی ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت وارننگ، ایران پر حملے کے سنگین نتائج سے آگاہ کیا

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 90 منٹ طویل ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور یوکرین جنگ سمیت اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کریملن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گفتگو کے دوران پیوٹن نے ایران اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کی گئی تو اس کے نتائج نہ صرف ایران بلکہ پوری عالمی سلامتی کے لیے انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔روسی صدر نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مذاکرات کے دروازے کھلیں گے اور خطے میں استحکام کی امید پیدا ہوگی۔ روس نے اس سلسلے میں سفارتی کوششوں میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

یوکرین جنگ سے متعلق گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ روسی حکام کے مطابق پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج میدانِ جنگ میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ خطے میں جاری لڑائی کے خاتمے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔رپورٹس کے مطابق پیوٹن نے 9 مئی کی جنگ عظیم دوم کی فتح کی تقریبات کے موقع پر عارضی جنگ بندی کی تجویز بھی دی، جس کی مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے حمایت کی ہے۔واضح رہے کہ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی پر فتح کی یاد میں فوجی پریڈ منعقد کرتا ہے، تاہم اس بار سیکیورٹی صورتحال کے باعث تقریبات محدود پیمانے پر منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔