محمدعرفان فانی
دنیا ایک امتحان گاہ ہے،اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے اعلیٰ مرتبت رسول اور پیغمبربھی آزمائے جاتے رہے ہیں،اس جہاں فانی میں انسان کو قدم قدم پر مختلف امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:‘‘أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ’’ترجمہ ، کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہہ دینے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے، اور ان کو آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا؟۔سورہ عنکبوت، آیت 2۔یہ آیت ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے،دنیا میں صرف نیکی اور سچائی کا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ ان دعوؤں کی جانچ بھی ہوگی اور یہ جانچ اکثر ایسی شکل میں سامنے آئے گی جو ہمیں ناانصافی، عدم توازن اور بے اصولی کی صورت میں دکھائی دے گی۔ اگر یہ حقیقت ہم خود سمجھتے ہیں تو کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے بچے ان باتوں کو کس طرح سمجھیں گے۔عصرِ حاضر میں ہم اپنے بچوں کو جو تربیت دے رہے ہیں، وہ اکثر آئیڈئلزم (نظریاتی کامل پن) پر مبنی ہوتی ہے۔ ہم انہیں سکھاتے ہیں کہ دنیا انصاف پر قائم ہے، کہ ہر محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے، اور کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے۔ یہ تعلیم اپنی جگہ درست ہے، مگر مکمل نہیں۔ جب ہم بچوں کو دنیا کے صرف روشن پہلو دکھاتے ہیں، تو ہم ا نہیں حقیقت سے دور لے جا رہے ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ہر وقت حق کا بول بالا نہیں ہوتا، ہر جگہ انصاف نہیں ہوتا۔ ہر اہل شخص کو اس کا حق نہیں ملتا۔ اور ہر محنت کرنے والا فوراً کامیاب نہیں ہوتا۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کو اس کڑوے سچ سے آشنا نہ کیا، تو وہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی ذہنی اور روحانی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔
وہ نوجوان جو خوابوں، اصولوں، اور مثالی تصورات کے سہارے جوان ہوا ہو، جب پہلی بار کسی ناحق کو کامیاب دیکھتا ہے یا خود کسی ناانصافی کا شکار بنتا ہے تو اس کے اندر ایک زلزلہ آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے:‘‘میرے ساتھ یہ کیوں ہوا؟’’۔ اگر اس وقت اس کے پاس ایک متوازن سوچ، روحانی قوت اور حقیقت پسندانہ نظریہ نہ ہو، تو وہ مایوسی کا شکار ہو کر دنیا سے کنارہ کش ہو جاتا ہے، یا پھر بغاوت کی راہ اختیار کرتا ہے۔اسلام ہمیں توازن سکھاتا ہے ۔ نہ حد سے زیادہ امید، نہ مکمل مایوسی۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت اس توازن کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ مکہ میں تیرہ سال کی جدوجہد کے باوجود بظاہر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ طائف میں پتھرمارے گئے، دشمنوں نے ظلم کے پہاڑ توڑے، مگر آپ ﷺ نے نہ حق کا دامن چھوڑا، نہ صبر کا۔ آپ ﷺ نے حضرت خباب بن الارتؓ سے فرمایا:‘‘اللہ کی قسم، یہ دین مکمل ہو کر رہے گا، لیکن تم لوگ جلدی کر رہے ہو۔’’(بخاری)یہی بات ہمیں اپنے بچوں کو سکھانی ہے کہ دنیا میں بے انصافی ہوگی، مگر وہ اللہ کی حکمت سے خالی نہیں۔ کہ حق کا راستہ مشکل ہو سکتا ہے، مگر منزل یقینی ہے۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا وعدہ صبر کرنے والوں، استقامت دکھانے والوں، اور تقویٰ اختیار کرنے والوں سے کیا ہے، نہ کہ فوری نتائج مانگنے والوں سے۔ہمیں چاہیے کہ بچوں کو صرف دنیاوی ترقی کا خواب نہ دکھائیں، بلکہ انھیں اس دنیا کی حقیقت بھی سکھائیں: کہ بعض اوقات تمہاری قابلیت تمہیں وہ مقام نہیں دلوائے گی جو تمہارے کسی کم اہل ساتھی کو صرف تعلق کی بنا پر مل جائے گا۔ کہ تم شاید حق پر ہو، مگر لوگ تمہیں غلط سمجھیں گے۔ کہ تمہاری نیت صاف ہوگی، مگر دنیا تمہیں شک کی نگاہ سے دیکھے گی۔ لیکن اگر تم نے اپنا رشتہ اللہ سے مضبوط رکھا، تو یہ سب تمہیں توڑنے کے بجائے تمہیں مزید مضبوط کرے گا۔
قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کی پوری کہانی ایک ایسی مثال ہے جو بچوں کو نہ صرف تربیت دیتی ہے، بلکہ دنیا کی حقیقت سے بھی روشناس کرواتی ہے۔ ایک بے گناہ شخص، جسے حسد کی بنیاد پر کنویں میں پھینکا گیا، جھوٹے الزام میں قید کیا گیا، مگر اللہ کے نظام نے آخرکار اسے عزت و عظمت عطا فرمائی — لیکن وقت لے کر، صبر لے کر، تکلیف سے گزر کر۔یہی پیغام ہمیں اپنے بچوں کو دینا ہے۔ ہمیں انھیں سکھانا ہے کہ وہ دنیا کے غیر منصفانہ رویوں سے گھبرا نہ جائیں، بلکہ ان کا سامنا صبر، سمجھ داری اور دعا کے ساتھ کریں۔ اور ساتھ ہی ہم ان کے دلوں میں یہ یقین بھی راسخ کریں کہ‘‘انَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِین’’— بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔یاد رکھیں، اگر ہم نے اپنے بچوں کو دنیا کی حقیقت سکھائی، ان کے اندر ایمانی بصیرت، جذباتی استقامت، اور حقیقت پسندانہ توقعات پیدا کیں، تو وہ ہر قسم کے حالات میں ثابت قدم رہیں گے۔ وہ نہ مایوس ہوں گے، نہ بغاوت کریں گے، اور نہ معاشرے سے کٹ کر خود کو تنہا کر لیں گے۔ بلکہ وہ دنیا کی تلخیوں کو سمجھ کر بھی دنیا کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہی وہ تربیت ہے جو صحابہ کرامؓ کو دی گئی، یہی وہ فہم ہے جس نے امام احمد بن حنبلؒ، امام مالکــؒ، اور امام ابو حنیفہ ؒجیسے جلیل القدر علماء کو فتنوں میں بھی راہ حق پر قائم رکھا اور یہی وہ روحانی اور فکری توازن ہے جس کی آج کے بچوں کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔پس وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم بچوں کی تربیت کو صرف اخلاقی تعلیم، اسکول کے گریڈز اور کیریئر پلاننگ تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں دنیا کی حقیقت، امتحان کی نوعیت، اور صبر و تقویٰ کی قوت سے آراستہ کریں۔ جب وہ یہ جان لیں گے کہ دنیا میں ہر کامیابی فوری نہیں ہوتی، ہر حق سراہا نہیں جاتا، اور ہر محنت کی داد نہیں ملتی مگر اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے تو وہ کامیاب بھی ہوں گے، پُرعزم بھی، اور مطمئن بھی اور یہی کامیاب زندگی کا حقیقی راز ہے۔