خاک سے اٹھتے خواب: ایران و پاکستان کا اتحاد

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
کبھی کبھی تاریخ آہیں بھرتی ہے اوراس آہ میں،وقت کے ساحلوں پرلمبااورگہراایک دکھ رہتاہے جس میں اتناوسیع،اتناسب استعمال ہوتا ہیکہ سب سے زیادہ فصیح زبان والے بھی خاموش ہوجاتے ہیں۔یہ وہ آہ تھی جوایران کے جنوبی ساحل سے اٹھی تھی،جہاں شہید رجائی بندرگاہ،جوکبھی تجارت اورقومیت کاقابل فخرسپاہی تھا،شعلے اوردھوئیں کے ستون کے نیچے گرگیا۔اس کاآغازسائرن سے نہیں ہوا،بلکہ غفلت کی خاموش آوازسے ہواایک چنگاری،نظرنہ آنے والی،بے خوف،ذخیرہ شدہ آگ کے دل میں بسی ہوئی ہے۔سوڈیم پرکلوریٹ،ایک نام جوشایدصرف جنگ میں تجارت کرنے والوں کیلئے جاناجاتاہے،انتظارمیں بیٹھے تھے۔ جب بیدارہواتواس نے سرگوشی نہیں کی بلکہ یہ گرجا۔
اس کے بعدآسمان تاریک ہوگیا۔زمین،ایک بارسمندرکی ہواکواس نے چوما،پھرآگ تھوکنے لگی اوراس غیظ وغضب کے درمیان،ایک قوم کھڑی رہی،اس کی سانسیں غم اورکفرکے درمیان پھنس گئی،اس کی روح اپنے ہاتھ کی حماقت سے جھلس گئی۔ایک لمحے میں چالیس سے زیادہ جانیں لے لی گئیںایک ہزارسے زائدزخمی ہوگئے جن میں درجنوں عمربھرکیلئے معذورہوگئے،وہ مردجنہوں نے مرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنے خاندانوں کاپیٹ پالنے کیلئے کام کررہے تھے۔ وہ عورتیں جو آسمان کو خوف سے دیکھتی تھیں،اب ان کے بچوں کے خواب دھواں بن گئے ہیں۔پھربھی،حقیقی تباہی تعداد میں نہیں ہے،بلکہ اس کے بعدہونے والی خاموشی میں ہے۔باپ کی خالی کرسی پر،ایک غم زدہ بندرگاہ کے اوپرسیاہ آسمان میں ان کا سب کچھ لٹ گیا۔ اس علم میں کہ یہ درد ٹالنے کے قابل تھاکہ حکمت کوپناہ دی گئی،وہ فرض ٹل گیا۔
ہم جانتے ہیں کہ دنیاکے افق پرکبھی کبھارایسے واقعات ظہورپذیرہوتے ہیں جونہ صرف انسانی جانوں کی ارزانی کانوحہ بن جاتے ہیں،بلکہ تہذیبوں کے جگرچاک کرتے ہوئے بین الاقوامی منظر نامے پرگہرے ارتعاشات بھی پیداکرتے ہیں۔ایران کی شہیدرجائی بندرگاہ پرحالیہ ہولناک دھماکہ بھی انہی سیاہ ابواب میں رقم ہوا،جس نے سوالات کے نئے بھنورمیں قوم کوڈال دیاہے۔
فضاؤں میں دھواں بکھرتاہے،زمین پرتپتی چنگاریاں برس رہی ہیں،اورایک قوم اپنے زخمی خوابوں کے ساتھ حیرت و استعجاب اورحسرت میں گم ہے۔ایران کی عظیم تجارتی بندرگاہ شہید رجائی پرہونے والادھماکہ صرف ایک معمولی حادثہ نہیں،بلکہ ایک تہذیبی نقیب ہے،جوتدبرسے محروم حکمرانی کے نقائص کوعیاں کرتاہے۔بندرعباس کے ساحلوں پرگونجتی یہ قیامت،جس میں چالیس سے زائدجانیں نذرہوئیں اورہزاروں زخمیوں کاخون رائیگاں بہا،اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ سائنس،طاقت اورترقی کی دوڑمیں انسانیت کوکس بے دردی سے قربان کردیاگیاہے۔
ایران کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ،شہیدرجائی،ایک خوفناک دھماکے کی لپیٹ میں آگئی،جس میں چالیس سے زائدافراد جاں بحق اورایک ہزارسے زیادہ زخمی ہوئے۔ابتدائی تحقیق کے مطابق،یہ سانحہ بندرگاہ پرذخیرہ شدہ بیلسٹک میزائلوں کے ٹھوس ایندھن،خاص طورپرسوڈیم پرکلوریٹ،کی نامناسب سنبھال کے نتیجے میں پیش آیا۔یہ واقعہ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ ایران کی معیشت اوربین الاقوامی وقار کیلئے ایک کاری ضرب بھی ہے۔عالمی برادری نے تعزیتی پیغامات بھیجے اورامدادفراہم کی،لیکن سوال اب بھی برقرارہے کہ اس حساس موادکوعوامی مقام پرذخیرہ کرنے کی جسارت کیسے ہوئی۔اس حادثے نے ایران کے جوہری مذاکرات پربھی گہرے سائے ڈال دیے ہیں اور معیشت کی نازک ڈورکومزیدکمزورکردیاہے۔
ایران کی سب سے بڑی تجارتی شہیدرجائی بندرگاہ،جوخلیج فارس کے ساحل پرواقع ہے۔یہ ملک کی80%درآمدات اور برآمدات کامرکزہے،جس میں تیل،خوراک،اورصنعتی سامان شامل ہیں۔اس کی جغرافیائی پوزیشن اسے بین الاقوامی تجارت کیلئیاہم بناتی ہے۔شہیدرجائی بندرگاہ،بندرعباس کے پہلومیں،ہمیشہ سے ایران کے تجارتی بیڑے کامرکزی ستون رہی ہے۔تاریخی طورپریہ خطہ،قدیم زمانے میں بندرسیران کے نام سے معروف،تجارتی قافلوں اورسمندری راستوں کاسنگم رہاہے۔ جدیددورمیں،1980کی دہائی میں، ایران-عراق جنگ کے دوران بھی یہ بندرگاہ ایرانی معیشت کی شہ رگ بنی رہی،جب دیگر راستے جنگ کی لپیٹ میں تھے۔ایران نے شہیدرجائی بندرگاہ کوجدیدخطوط پراستوار کرکے اسے عالمی تجارت کامرکز بنانے کاخواب دیکھامگرحالیہ دھماکہ اس خواب کی بنیادوں میں دراڑڈال گیاہے۔
دھماکاخطرناک کیمیائی موادکے ذخیرہ گاہ میں آگ لگنے کے بعدہوا،جس نے پورے علاقے کوتباہ کردیا۔ابتدائی رپورٹس میں اسے’’حادثاتی‘‘قراردیاگیا،مگرتحقیقات جاری ہیں ۔انتہائی المناک واقعہ میں ہلاکتیں زیادہ تربندرگاہ کے ملازمین،فائر فائٹرزاورقریبی رہائشیوں میں ہوئیں۔زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے،جس سے طبی سہولیات پر دباؤبڑھ گیا ہے۔
یہ سانحہ ہمیں یاددلاتاہے کہ اقوام کی عظمت صرف عسکری قوت یااقتصادی ترقی سے نہیں بلکہ تہذیبی بلوغت،احتیاط اور دانشمندانہ حکمرانی سے مشروط ہوتی ہے۔شہیدرجائی کاحادثہ اس تلخ تاریخی حقیقت کوایک بارپھرآشکارکرتاہے کہ جب طاقت کے زعم میں حکمت اورتدبرقربان ہوجائیں توعظیم ترین تعمیرات بھی لمحوں میں مٹی کاڈھیربن سکتی ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے تعزیتی بیانات بھیجے،فائرفائٹنگ جہازروانہ کیے گئے،مگرسوال اپنی جگہ قائم ہے:کیاصرف تعزیت کافی ہے جب عقل،دانش اوراحتیاط خودکشی پرآمادہ ہوں ؟ یہ سانحہ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ تہذیبیں صرف قوت کے بل پرزندہ نہیں رہتیں؛انہیں شعور،تدبراوراصولوں کے خمیرسے سینچاجاتاہے۔شہیدرجائی کے زخمی ساحل آج تاریخ سے یہی صدائیں دے رہے ہیں۔ایرانی حکومت کاکہناہے کہ کیمیائی موادکی غلط ذخیرہ کاری سے آگ پھیلی،جودھماکے کاباعث بنی۔یہ موادصنعتی یافوجی مقاصد کیلئے استعمال ہوتاہے۔ سوشل میڈیاپردعوے ہیں کہ چین سے درآمد شدہ راکٹ ایندھن بندرگاہ پرذخیرہ کیاگیاتھا،جو ایران کے فوجی اتحادوں کی طرف اشارہ کرتاہے۔ایرانی شہریوں نے سوشل میڈیاپر سوال اٹھائے ہیں کہ اتناخطرناک مواد آبادی کے قریب کیوں رکھاگیا؟ایرانی عوام حکومت کی شفافیت اورانتظامی کوتاہیوں کونشانہ بنارہے ہیں۔
اقتصادی بحران کاخطرہ پیداہوگیاہے کیونکہ اس حادثے کے بعدبندرگاہ کی عارضی بندش سے خوراک اورادویات کی سپلائی متاثرہوسکتی ہے،خاص طورپرچونکہ ایران پہلے ہی معاشی پابندیوں کے زیرِاثرہے۔تاہم ہنگامی اقدامات کااعلان کرتے ہوئے فائرفائٹرزاورریسکیوٹیموں کوفوری طورپرتعینات کیاگیاہے،مگرآگ کے پھیلاکی رفتارنے صورتحال کو کنٹرول سے باہرکردیاہے۔
بین الاقوامی انٹیلی جنس اداروں،بالخصوص ایمبری انٹیلی جنس کے انکشافات نے اس حادثے کومحض ایک تکنیکی غفلت کا نتیجہ ماننے سے انکارکیاہے۔ان کے مطابق،حادثے سے قبل وہاں وہ مخصوص کنٹینرزموجودتھے جن میں بیلسٹک میزائلوں کیلئے استعمال ہونے والاٹھوس راکٹ ایندھن ذخیرہ کیاگیاتھا۔یہ’’سوڈیم پرکلوریٹ‘‘پرمبنی مواد،جوکہ انتہائی آتش گیر ہے ، دراصل مارچ2025میں ایران کے پرچم بردارایک جہازکے ذریعے اتاراگیاتھا۔یہ انکشاف اس سانحے کومحض مقامی غفلت کانہیں بلکہ بین الاقوامی سیاست اوراسلحہ کی دوڑ کے خطرناک باب کاحصہ بناتاہے۔وہ مثل بیساختہ ذہن میں آتی ہے کہ:
جوآگ لگائے گااپنے آشیانے کو
اسی کی دہکتی چتاہوگی سامان عبرت
ایمبری انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق بندرگاہ پربیلسٹک میزائلوں کیلئے مخصوص ٹھوس راکٹ ایندھن کاذخیرہ تھا،جسے نہایت غیرمحتاط اندازمیں رکھاگیا۔سوڈیم پرکلوریٹ،جوآتش کاایساناچ دکھاسکتاہے کہ آسمان کے چراغ بھی جھرجھری لے لیں،وہاں پڑاسلگتارہااورآخرکاراپنی ہلاکت خیزطبعیت کامظاہرہ کرگیا۔یوں محسوس ہوتاہے جیسے وقت کے صفحے پر ایک بارپھروہی کہانی لکھی جارہی ہے جس میں غرورِطاقت کاانجام عبرت کاسامان بن جاتاہے۔ محاورہ ہے:جنہیں چاہے ہوائے دہر،بنادے خاک کاذرہ۔
جنوبی ایران کے ساحلوں پرواقع شہربندرعباس کی یہ بندرگاہ،جوایرانی معیشت کادھڑکتاہوادل تصورکی جاتی ہے،وہاں یہ ہنگامہ خیزلمحے میں،آتش وآہن کی لپیٹ میں آگئی۔ دہماکہ،جیساکہ ابتدائی تحقیقات سے مترشح ہوتاہے،بندرگاہ کے اس گوشے میں برپاہواجہاں خطرناک کیمیائی موادکاذخیرہ موجودتھا۔المیہ یہ ہے کہ اس موادکی حفاظت میں وہ احتیاطی تدابیر روانہیں رکھی گئیں جوایک باشعوراورسائنسی ترقی یافتہ قوم سے متوقع تھیں۔
کیاایران بندرگاہ کوفوجی مقاصدکیلئے استعمال کررہاتھا؟اگرہاں،تویہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ خطرناک موادکومحفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کیلئے بین الاقوامی معیارات موجودہیں۔ایران نے ان پرعمل کیوں نہیں کیا؟انتظامی کوتاہیوں کاجواب بھی دیناہوگا۔سوال یہ بھی ہے کہ کیاحادثے کوایران کی داخلی سیاست یابیرونی دباؤ کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے؟مثال کے طورپر،اصلاح پسندوں اورقدامت پسندوں کے درمیان تناکی خیلج بھی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بقول شاعر:
یہی اندازہیں قیصروں کے،یہی اطوارچلے آتے ہیں۔(جاری ہے)