سمیع االلہ ملک (آخری قسط)
اگر امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ پرنظردوڑائیں تواس میں دو ٹوک اورسخت پاندیاں لگاتے ہوئے کہاگیاہے کہ ان چاروں کمپنیوں کے امریکا میں موجودیا امریکی افرادکی تحویل میں موجودتمام تراثاثے منجمد کردیے جائیں گے۔ان کمپنیوں کی ملکیت رکھنے والے افرادکے امریکامیں داخلے پربھی پابندی لگادی جائے گی اورامریکی شہریوں کوان کے ساتھ کاروبارکرنے سے روک دیاجائے گا۔
چین کی42کمپنیاں ہیں جوجدیدالیکٹرانک اورمیزائل ٹیکنالوجی سے منسلک ہیں جن میں اہم نام ہوائے کلاڈ،سینوٹیک الکٹرانکس، اورچینجڈوایروسپیس ہیں۔ان کمپنیوں پریہ الزامات ہیں کہ یہ چینی فوج پیپلز لبریشن آرمی جدید ڈرون ٹیکنالوجی سپلائی کرنے میں ملوث ہے اور2018میں بیلاروس کی منسک ڈیفنس سلوشن سمیت7انجینئرنگ کمپنیوں کوبھی اس فہرست میں شامل کرلیاگیاجس پر پابندیاں عائدکردی گئیں۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات کی چارکمپنیاں ڈیزرٹ فالکن ٹیکنالوجیز،سکائی لائن ڈیفنس سلوشن کونامزدکیاگیاہے جوایران کو شہاب تھری میزائل کے جائرو اسکوپس پرزے اورڈرونز کے پرزے سپلائی کررہی ہیں۔یوکرین کو امریکی ہتھیار فراہم کرنے والی کمپنیوں نے رپورٹ کیا کہ روس ایرانی ساختہ ڈرونزکے ذریعے یوکرین پرحملے کررہاہے جن کے پرزے متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے سپلائی کیے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا، لیکن ایران کے ساتھ تجارت میں کمی کردی ہے لیکن ایک اطلاع
کے مطابق متحدہ عرب امارات نے غیرسرکاری سطح پر پرزے سپلائی کرنے والی کمپنیوں کوبندکردیاہے۔اس کے ساتھ ہی یو اے ای کی تجارتی برادری میں شدیدتشویش پائی جاتی ہے۔
چین کاجے ایل تھری سب میرین میزائل منصوبہ بھی سست روی کاشکارہے جس میں سینوٹیک الیکٹرانکس کاکردارتھا۔چین کی کمپنی ہووائے کلاڈکے شئیرزمیں15فیصد کمی آگئی ہے جس سے اس کی مارکیٹ ویلیو20بلین ڈالرتک گرگئی ہے۔یہ پہلاموقع نہیں جب امریکا نے پاکستان یا دیگر ممالک کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہوں۔ اپریل 2004 میں چین کی3اوربیلاروس کی ایک کمپنی پرپابندی عائدکی گئی جوپاکستان کے میزائل پروگرام میں مدددے رہی تھیں۔۔2018میں پاکستان کی7اورانجینیئرنگ کمپنیوں کو سخت نگرانی کی فہرست میں شامل کیاگیاتھا۔
2018 میں کراچی انجیئرنگ ورکس پر "روٹرز"سنٹری فیوج کی غیر قانونی فروخت کی بنا پر پابندی لگا دی گئی تھی اسی طرح دسمبر2021میں پاکستانی کمپنیوں پرجوہری اورمیزائل پروگرام میں مبینہ مددکے الزام میں پابندیاں لگائی گئی تھیں اوراب2021میں سپارکوپرراڈارسے بچنے والے اسٹیلتھ میٹریل ڈیسٹومیں ترقی حاصل کرنے پرپابندی لگادی گئی ہے اورڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آرگنائزیشن ’’ڈیسٹو‘‘پر غوری4میزائل کیلئے ڈیجیٹل گائیڈنس سسٹم کی تیاری کرنے پرپابندی لگادی گئی ہے اور’’گڈز‘‘گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشن پرجے ایف تھنڈر17طیاروں کیلئے ایل ای ڈی ایویونکس کوتیارکرنے پرپابندی لگادی گئی ہے۔ اسی طرح کراچی انجیئرنگ ورکس پریورینیم افزودگی میں استعمال ہونے والے’’پی ٹوسنٹرفیوج‘‘کے پرزے تیارکرنے کے الزام میں پابندی لگادی گئی ہے۔پاکستانی کمپنی’’واہ نوبل گروپ‘‘کوجوہری ری ایکٹرزمیں استعمال ہونے والے’’ڈی ٹواو‘‘ہیوی واٹرکی غیرقانونی فروخت کاالزام لگاکرپابندی لگادی گئی ہے۔
اپریل2024 میں چین کی چینجڈوایروسپیس پریہ الزام لگاکرپابندی عائدکردی گئی کہ یہ پاکستان کے بابرتھری کروزمیزائل کیلئے کمپوزٹ میٹریل سپلائی کرتی ہے جومیزائل کوایک ہزارکلومیٹرتک رینج فراہم کرتے ہیں اوربیلا روس کی منک ڈیفنس سلوشن پر اس لئے پابندی عائد کی گئی کہ وہ پاکستان کے شاہین تھری میزائل کیلئے سٹیلتھ کوٹنگ کی ترقی میں مدددے رہی ہے۔
امریکی مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں امریکی پالیسی کاحصہ ہیں جوحساس ٹیکنالوجیزکی منتقلی روکنے کیلئے بنائی گئی ہیں لیکن عالمی ماہرین کو اس دہرے معیارپربہت تحفظات ہیں کہ خطے میں بھارت برملاان عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی کررہاہے لیکن اس کے باوجودامریکااوراس کے اتحادی’’سول ایٹمی ٹیکنالوجی معاہدے‘‘کی آڑمیں نہ صرف بھارت کی مدد کررہے ہیں بلکہ اس پراپنی آنکھیں بھی بندکرکے مکمل خاموش ہیں۔
امریکی پابندیوں کے جواب میں مختلف ممالک کاردعمل سامنے آیاہے۔چین نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے’’امریکی یکطرفہ کارروائی‘‘قراردیاہے اورعالمی تجارتی تنظیم’’ڈبلیوٹی او‘‘میں اس کی شکائت درج کرانے کاعندیہ دیاہے۔چین نے جوابی پابندیوں کااعلان کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کواقتصادی دہشتگردی قراردیاہے جبکہ پاکستان نے امریکاسے ان پابندیوں کی وضاحت طلب کرتے ہوئے اسے سفارتی سطح پراٹھانے کیلئے داخلی سطح پرایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جواس پرفوری مناسب اقدامات اٹھائے گی جبکہ ان پابندیوں کے رد عمل میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ یہ پابندیاں ہمارے دفاعی حق پرحملہ ہیں،ہم اپنے دفاعی پروگرامز پرکسی کوٹوکنے نہیں دیں گے اورہم اپنے میزائل پروگرام کوجاری رکھیں گے۔پاکستانی وزارت خارجہ نے آئی اے ای اے کوخط لکھ کرامریکی پابندیوں کوغیرمنصفانہ قراردیاہے۔امریکاپاکستان کوجوہری عدم پھیلاؤ’’این ٹی پی‘‘کے معاہدے پردستخط کرنے پرمجبورکرناچاہتاہے جبکہ پاکستان کامؤقف ہے کہ ہماری ایٹمی صلاحیت دفاعی ہے اورکسی کو کوئی خطرہ نہیں۔
٭پاکستان کیلئے ٹیکنالوجی کا مقامی حل یہ ہے کہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوسیمی کنڈکٹرریسرچ لیب قائم کرنے کیلئے فنڈزمہیاکئے جائیں۔
٭اقوام متحدہ میں جوہری عدم پھیلاکے معاہدے پربین الاقوامی مذاکرات شروع کئے جائیں جہاں نئی شرائط پربات چیت کرکے تیسری دنیاکے ممالک کوایسی نارواپابندیوں کے عذاب سے محفوط کیاجائے۔
٭عالمی تجزیہ نگاروں کاکہناہے کہ تمام متاثرہ ممالک مل کرجوابی پابندیوں سے امریکاکوبہترین جواب دے سکتے ہیں جس کی ایک مثال تویہ ہے کہ امریکاکی مائیکروچپ صنعت کاچین پر80فیصدانحصارکرتی ہے اورچین ان پابندیوں کے جواب میں اس کااعلان کرچکاہے کہ وہ ان بیجااورنارواپابندیوں کاضرورجواب دے گا۔اب امریکاکے ساتھ سفارتی سطح پر مذاکرات کے ذریعے ان پابندیوں پروضاحت طلب کی جائے۔
٭بین الاقوامی تجارتی قوانین کے تحت امریکاکے فیصلے کوچیلنج کیاجائے۔
٭اقوام متحدہ یاعالمی تجارتی تنظیم میں ان غیرقانونی پابندیوں کے خلاف اپیل دائرکی جائے۔
٭قانونی اقدامات اٹھاتے ہوئے متاثرہ کمپنیوں کیلئے قانونی چارہ جوئی کے راستے تلاش کئے جائیں۔
٭امریکی پابندیوں سے متاثر ممالک فوری طورپرمتبادل تجارتی راستے اختیارکرتے ہوئے اقدامات اٹھائیں
٭چین،روس،ترکی اورمشرق وسطی کے دیگرممالک کے ساتھ تجارت کوفروغ دیں۔
٭اپنی دفاعی اورصنعتی صلاحیتوں کوبڑھانے کیلئے اندرونی وسائل پرتوجہ دیں۔
٭اپنی کمپنیوں کے تجارتی طریقوں کوعالمی قوانین کے مطابق شفاف بنانے کیلئے اندرونی نگرانی کے عمل کوفروغ دیں۔
٭جوہری اورمیزائل پروگرامزکے بارے میں بین الاقوامی ایجنسیوں آئی اے ای اے کی رپورٹنگ کوبڑھانے کی ضرورت پرزوردیں ۔
٭امریکاکی جاسوسی سے بچنے کیلئے خفیہ کمیونیکیشن نیٹ ورکس قائم کرکے سائیبرسیکورٹی کے نظام کومزیدمضبوط بنایاجائے۔
٭چینی وزارتِ خارجہ نے کہاکہ ہرصورت سی پیک کوکسی بھی بیرونی دباؤسے محفوظ رکھاجائے گا۔پاکستان اورچین سی پیک کی حفاظت کیلئے گورڈن گارڈزفورس کوجدیدسیکورٹی ٹیکنالوجی سے لیس کریں گے۔
٭امریکی پابندیوں کامقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ مستقل بنیادوں پرمستقبل کی حکمت عملی کالائحہ عمل تیارکیاجائے۔
٭جدیدٹیکنالوجی کے دورمیں آئی ٹی نے تمام ٹیکنالوجیزپرسبقت حاصل کرلی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ مستقبل میں سائبرجنگ کی تیاری کیلئے اے آئی آرٹیفشل ٹیکنالوجی سے پاکستان کے سیکورٹی کمانڈکوجدید ترین نیشنل سائبرٹولزسے لیس کیاجائے۔
٭تمام متاثرہ ممالک روس،چین اورترکی کے ساتھ ٹیکنالوجی شئیرنگ معاہدوں کاآغازکریں اورمضبوط بنیادوں پرسیکورٹی ٹولزکا تبادلہ کیاجائے۔
٭امریکی پابندیاں عالمی تجارتی نظام اورسفارتی تعلقات پرگہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔پاکستان،چین،اوردیگرمتاثرہ ممالک کواپنی پالیسیوں پرنظرثانی کرتے ہوئے عالمی سطح پراپنے مفادات کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔اگریہ ممالک سفارتی اور تجارتی سطح پرمؤثرحکمت عملی اختیارکرتے ہیں،تووہ ان پابندیوں کے ممکنہ منفی اثرات کوکم کرسکتے ہیں ۔
امریکاکی یہ پابندیاں جیوپولیٹیکل کشمکش کاحصہ اورطاقت کے نئے عالمی توازن کی عکاس ہیں،جس میں چین کوروکنے کیلئے پاکستان جیسے اتحادی کونشانہ بناکردبامیں لیاجارہاہے ۔
متاثرہ ممالک کوچاہیے کہ ان چیلنجزسے نمٹنے کیلئیمقامی ٹیکنالوجی کی ترقی،بین الاقوامی سفارت کاری،اقتصادی خودمختاری کوترجیح دیں کیونکہ اقتصادی خودکفالت ہی ان تمام مسائل کی کلیدہے اورعلاوہ ازیں بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاعی حقوق کاتحفظ کریں۔