طلعت بٹ
ارسطو کے اس فقرے میں دنیا بھر کی نفسیات سمٹی ہوئی نظر آتی ہے ! کہ جس شخص نے غصہ پر قابو نہ پایا اس کے مخالفین اسے بڑے پیمانے پر ہدف بنا لیتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کیونکہ تبدیلی فطرت کا قانون ہے ، سقراط ، اس فکر پر غور کریں تو ایک بات کھل کر عیاں ہو جاتی ہے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ، لمحات کا فیصلہ کسی بھی جانب چلتے چلتے اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے تاریخ رقم کرکے ثابت ہو جاتا ہے۔ ہمیں آج بھی سقراط کے اس فقرے کی سمجھ نہیں آتی کہ ؛ جیسے نظر آنا چاہتے ہو ویسے بن جاؤ ‘ دراصل اس فلسفہ میں زندگی کی حقیقت چھپی بیٹھی ہے مگر ہم مصنوعی رنگوں میں ملبوس روشنی دیکھنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ جس طرح پاکستان میں عوام کی حالت تشویشناک ہے اس کے برعکس ہمسایہ ملکوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی خوشحال نظر آتی ہے۔ دیکھنے میں ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگر شفاف پانی تک میسر نہیں ہے اب اگر کوئی شخص عدالتوں میں کسی مقدمہ سے دوچار ہو جائے تو اس کی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ اس سارے نظام کو کس طرح ٹھیک کریں بڑا مشکل کام ہے۔ میرے تحریر کردہ خطوط جس میں ذکر اور فکر پر کھل کر بحث کر چکا ہوں میری اپنے ملک کی بہتری اور خوشحالی کے پروگرام پر جو پیشکش تھی میرے ہم وطنوں نے بڑی خوش اسلوبی سے قبول فرمائی مگر پورے ملک کو ایک خوبصورت طرز تعمیر پر چلانا کوئی سہل کام نہیں ، اور پھر یہ نظام تو خود سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ میرے اور آپ کے دیس میں قانون کا جو مذاق بنایا جاتا ہے اس میں سب سے بڑا مسئلہ عدلیہ کی جانب سے رشوت اور لاپرواہی ہے۔ اب جب کہ ہم دنیا کے سامنے مذاق بن چکے ہیں اور ہمارا سیاسی نظام ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو خود نا دہندہ ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان مجرموں نے پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے اور اس کے علاوہ جو بوجھ ملک کے تمام اداروں نے ڈالا ہوا ہے اس کا تذکرہ کیا کروں سب کچھ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ان سب نے اس ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے ، ڈنڈے کے زور پر یہ عارضی طور پر قائم حکومتیں زیادہ دیر تک نہیں چلتیں ، اس کو ڈراپ ہونا ہی ہوتا ہے۔ میں زیادہ گہرائی میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ میرا مقصد اپنی قوم کے شعور کو بیدار کرنا ہے ، بھڑکانا یا باغی کرنا قطعی نہیں ہے۔ کبھی کبھی اپنے ہم وطنوں اور ملک کے خیرخواہوں سے ہمکلام ہوتا ہوں۔ جس سے پاکستان کے لئے مفید اور کار آمد پروگرامز پر بات چیت اور خوشحالی کا پہلو تلاش کرنا ہوتا ہے میری خواہش ہے کہ میرے ملک کا دنیا میں ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہو ، سو اس نقطہ پر اگر کوئی سخت لہجہ اختیار کروں تو وہ پاکستان کی ترقی کے لئے ایک ترش نوالہ سجھ کر برداشت کر لیا کریں کیوں کہ میں آپ کیلئے امن اور دوستی کا اظہار کرتا ہوں ، یورپ اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں عدلیہ کا مقام کسی بھی سرکاری ادارے سے افضل ہے کیونکہ جس قانون کا احترام عدالتیں کرتی ہیں اسی قانون کو بنانے والے افراد ملک کے دوست ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مغربی ممالک میں طالب علم کو ادب اور تنظیم میں مہارت ان کے سکولوں اور تعلیمی بورڈ سے حاصل ہوتی ہے اور یہ طالب علم ہی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں ان کی نگہداشت پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور پھر تاریخ کو حقیقی معنوں میں ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے یہی سٹوڈنٹس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالتے ہوئے اسے ترقی کی جانب لے جاتے ہیں ، مگر اس کے برعکس ہمارے ہاں طالب علم کو کسی بیرونی طاقت کی مداخلت کی وجہ سے نامکمل ایجنڈا دیا جاتا جس کا انجام بڑا بھیانک اور خطرناک صورتحال میں
بدل جاتا ہے۔ اب میں آتا ہوں اپنے ملک کی موجودہ صورتحال پر کیونکہ جو حالت میری عوام کی آج کے دور میں دیکھی جا رہی ہے کبھی بھی ایسی نازک حالت نہیں ملی ان حالات میں پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔ ملک میں مہنگائی کا جو عالم ہے یہ بڑا خوفناک نظر آ رہا ہے پیٹرول کی قیمت اور گھریلو استعمال کی اشیا کنٹرول سے باہر ہیں اب ان حالات میں عوام کو ریلیف کیسے مل سکتا ہے۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ پاکستان کی اشرفیہ اور حکمران طبقہ غریب عوام کے ٹیکس سے اپنی شاہ خرچیاں چلاتے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے ختم ہوگا اور کون کرے گا ان سوالوں کا جواب دینے سے پہلے یہ بھی دیکھ لیں کہ آپ کا مخالف کتنا طاقتور ہے کیا یہ لوگ جو خود کو طاقت کے زور پر حکمران کہتے ہیں اپنا قبضہ چھوڑ کر حکومت اصل عوامی ہاتھوں میں دے دیں گے۔ آخر کار عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہیں یہ سب کچھ ممکن ہے اگر پاکستانی عوام اپنے حقوق کے لئے سوچ بچار کرے اور ظالموں کے سامنے ڈٹ جائے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے جب عوام سڑکوں پر نکل آتی ہے تو سمندر جیسی لہروں میں سب کچھ بہہ جاتا ہے۔ عوامی تحریکوں کی ایک لمبی لسٹ اس بات کی شاہد ہے جیت ہمیشہ عوام کی ہوتی ہے۔ جو حالت اس قوم کی ان ظالم حکومتوں نے بنا دی ہے اور جس طرح ان کی کمزور معاشی صورتحال ہے اس میں عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ سیاست کو مذاق سمجھ رکھا ہے اور عوامی مینڈیٹ کی کوئی پروا نہیں ان حالات میں عذاب ہی نازل ہوسکتا ہے جس طرح سری لنکا اور ترکی میں لوگ سڑکوں پر نکلے تو سارا نظام ایک دم عوامی ہاتھوں میں منتقل ہوگیا اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان کا انقلاب دنیا بھر میں ایک تاریخ رقم کر دے گا کیونکہ جس ریاست میں عوام پر ظلم و ستم اور جبر ہوگا تو انقلاب وہاں پر سب کچھ تبدیل کر دے گا میری خواہش ہے کہ میں اپنے ملک پاکستان کو خوشحال دیکھوں اور یہ جبر کا نظام اپنے انجام کو پہنچ جائے اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کے حالات کو شہری اور عوامی کی خواب غفلت سے بیداری ہی آخر کار بدل سکتی ہے ! کچھ باتیں اگلے خط میں ہونگی ، اس دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ میرے وطن عزیز کو ہمیشہ اوج کمال پر قائم و دائم اور چمکتا دمکتا رکھے " آمین "