مساوات کا خواب اور حقیقت کا زہر

 ارشدمنیر چودھری
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو نظریہ مساوات پر قائم ہوا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بارہا فرمایا  یہاں ہر شہری کو برابر حقوق حاصل ہوں گے، چاہے وہ کسی بھی مذہب، ذات، یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ مگر آج78 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد، ہم اس خواب سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ مساوات کا تصور ہی ایک طنزیہ جملہ لگتا ہے۔ہمارا معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس دولت، طاقت اور رسائی ہے، اور دوسری طرف وہ عوام ہیں جنہیں بنیادی سہولیات کے لیے بھی ترسنا پڑتا ہے۔ یہ فرق صرف مالی نہیں، بلکہ سماجی، تعلیمی، قانونی اور اخلاقی سطح پر بھی موجود ہے۔
بیوروکریسی کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت ہے، مگر ہمارے ہاں یہ طبقہ خود کو عوام سے بالا تر سمجھتا ہے۔ دفاتر میں عام شہری کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے، فائلیں ہفتوں تک دبائے رکھی جاتی ہیں، اور رشوت کے بغیر کام ہونا معجزہ تصور کیا جاتا ہے۔ بیوروکریٹ وہ زبان بولتے ہیں جو عام آدمی سمجھ ہی نہیں سکتا، اور وہ رویہ اپناتے ہیں جو غلامی کی یاد دلاتا ہے۔یہی بیوروکریسی جب امیر یا بااثر افراد کے لیے کام کرتی ہے تو نہ صرف فوری عمل ہوتا ہے بلکہ پروٹوکول بھی دیا جاتا ہے۔ مساوات کہاں گئی؟ کیا قانون صرف کمزور کے لیے ہے؟
سیاستدان عوام کے نمائندے ہوتے ہیں، مگر ہمارے ہاں وہ بادشاہوں کی طرح رہتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں وہ گلیوں میں جھانکتے ہیں، مگر جیتنے کے بعد وہ عوام کو بھول جاتے ہیں۔ ان کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں، علاج لندن میں ہوتا ہے، اور کاروبار دبئی میں۔ جبکہ عوام کے بچے سرکاری اسکولوں میں ٹوٹی ہوئی کرسیوں پر بیٹھتے ہیں، اسپتالوں میں دوائی کے لیے ترستے ہیں، اور روزگار کے لیے دھکے کھاتے ہیں۔یہی سیاستدان جب مساوات کی بات کرتے ہیں تو وہ صرف تقریر کا حصہ ہوتا ہے، عمل کا نہیں۔ وہ قانون سازی کرتے ہیں، مگر اپنے مفاد کے لیے۔ وہ بجٹ بناتے ہیں، مگر عوام کے لیے نہیں، بلکہ اپنے حلقے کے مخصوص افراد کے لیے۔پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان فرق اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب یہ صرف مالی نہیں، بلکہ نفسیاتی اور سماجی بھی بن چکا ہے۔ امیر طبقہ الگ اسکولوں، الگ اسپتالوں، الگ شادی ہالوں، اور الگ محلوں میں رہتا ہے۔ غریب کو ان جگہوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں، نہ ہی وہ خود کو وہاں قابل محسوس کرتا ہے۔
غریب کی زندگی روزمرہ کی جدوجہد میں گزر جاتی ہے۔ وہ صبح سے شام تک مزدوری کرتا ہے، اور پھر بھی دو وقت کی روٹی پوری نہیں ہوتی۔ جبکہ امیر طبقہ ایک دن میں اتنا خرچ کرتا ہے جتنا ایک غریب سال بھر میں نہیں کما سکتا۔یہ فرق صرف معیشت کا نہیں، بلکہ عزت، وقار اور مواقع کا بھی ہے۔ مساوات کا مطلب صرف برابر تنخواہ نہیں، بلکہ برابر عزت، برابر مواقع، اور برابر انصاف ہے۔
تعلیم وہ ذریعہ ہے جو مساوات کو فروغ دے سکتا ہے، مگر ہمارے ہاں یہ بھی طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے بچے اور اردو میڈیم اسکولوں کے طلبہ کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ نصاب الگ، تربیت الگ، اور مستقبل الگ۔یہی فرق آگے جا کر نوکریوں، مواقع اور سماجی مقام میں نظر آتا ہے۔ مساوات تب ممکن ہے جب ہر بچے کو یکساں تعلیم، تربیت اور مواقع دیے 
جائیں۔ہمارے عدالتی نظام میں مساوات کا تصور بھی کمزور ہو چکا ہے۔ طاقتور افراد ضمانت پر باہر آ جاتے ہیں، مقدمات سالوں تک التوا میں رہتے ہیں، اور آخر کار "ثبوت نہ ہونے" پر بری ہو جاتے ہیں۔ جبکہ غریب آدمی معمولی جرم پر سالوں جیل میں سڑتا ہے۔یہ نظام انصاف نہیں، بلکہ طاقت کی پرستش ہے۔ مساوات تب ممکن ہے جب قانون سب کے لیے ایک جیسا ہو، چاہے وہ وزیر ہو یا مزدور۔