اقتصادی خودمختاری: پابندیوں کا مؤثر جواب یا محض خواب؟

سمیع االلہ ملک (پہلی قسط)
امریکانے پاکستان،چین،متحدہ عرب امارات سمیت آٹھ ممالک کی70کمپنیوں پربرآمدی پابندیاں عائدکی ہیں۔جن میں19پاکستانی،42 چینی اور4متحدہ عرب امارات سمیت ایران، فرانس،افریقہ،سینیگال اوربرطانیہ کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔یہ پابندیاں مختلف وجوہات کی بناپرلگائی گئی ہیں،جن میں قومی سلامتی،جوہری اوربیلسٹک میزائل پروگرامزمیں مبینہ شمولیت اوردیگرامورشامل ہیں۔امریکی حکومت کادعوی ہے کہ یہ کمپنیاں امریکاکی قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی کام کررہی ہیں۔
یادرہے کہ ایساپہلی بارنہیں کہ امریکانے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں کو’’قومی سلامتی کیلئے خطرہ‘‘قراردیتے ہوئے ان پرپابندیاں عائد کی ہوں۔اس سے قبل2018 میں بھی امریکانے پاکستان کی7ایسی انجینیئرنگ کمپنیوں کو جوہری آلات کی تجارت میں ملوث قراردیکرسخت نگرانی کی فہرست میں شامل کیاتھا۔اس کے بعد دسمبر2021میں بھی امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اورمیزائل پروگرام میں مبینہ طورپرمددفراہم کرنے کے الزام میں13پاکستانی کمپنیوں پرپابندیاں لگادی تھی۔
امریکی پابندیوں کی زدمیں جوپاکستانی کمپنیاں آئی ہیں ان میں الائیڈبزنس کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ،اریسٹن ٹریڈ لنکس،بریٹلائٹ انجینئرنگ کمپنی،گلوبل ٹریڈرز،انڈنٹیک انٹرنیشنل ، انٹرا لنک انکارپوریٹڈ،لنکرزآٹومیش پرائیویٹ لمیٹڈ،این اے انٹرپرائززشامل ہیں۔ اوٹومینوفیکچرنگ،پوٹھوہارانڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ کنسرن،پراک ماسٹر،پروفیشنل سسٹمز پرائیویٹ لمیٹڈ،رچناسپلائیزپرائیویٹ لمیٹڈ اوررسٹیک ٹیکنالوجیزبھی پابندیوں کاشکارکمپنیاں ہیں۔امریکانے نہ صرف پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے چارسپلائرز پر پابندی  لگائی ہے ۔پاکستان کے دفترخارجہ نے ایک بیان میں کہاہے کہ اسلام آبادامریکاکے حالیہ اقدامات کے حوالے سے آگاہ نہیں تاہم ماضی میں ’’محض شک کی بنیادپرفہرست جاری کی گئی یاپھر ان میں شامل اشیاکنٹرول لسٹ میں شامل بھی نہیں تھیں مگرانہیں حساس سمجھا گیا‘‘۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیومِلرکی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ’’امریکاان چارپاکستانی کمپنیوں کو نامزدکررہاہے جوبڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اوران کی ترسیل میں ملوث رہے ہیں۔امریکاتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کرتارہے گا‘‘۔واضح رہے کہ اب تک خودامریکانے اسرائیل کوغزہ میں جنگ کیلئے تین ارب ڈالرز سے زیادہ کے ہتھیارمہیاکیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ایک فیکٹ شیٹ بھی جاری کی گئی ہے۔اس فیکٹ شیٹ کے مطابق امریکانے چین میں قائم شیان لونگڈے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈپرپاکستان کے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل کی تیاری کیلئے پرزے اورآلات فراہم کرنے کاالزام عائدکیاہے۔اس میں فلیمینٹ وائنڈنگ مشین بھی شامل ہے جوراکٹ موٹرکیسزتیارکرنے کیلئے استعمال کی جاسکتی ہے۔تیانجِن کری ایٹوانٹرنیشنل ٹریڈکمپنی لمیٹڈنے پاکستان کے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کوآلات فرام کیے ہیں جس میں’’سٹرویلڈنگ‘‘کاسامان بھی شامل ہے۔امریکاکے مطابق سپیس لانچ ویہیکل میں استعمال ہونے والے پروپیلینٹ ٹینکوں کی تیاری میں بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
فیکٹ شیٹ میں چین کی گرانپیکٹ کمپنی لمیٹڈپرالزام عائدکیاہے کہ یہ کمپنی پاکستان کی خلائی تحقیق کے ادارے سپارکوکے ساتھ مل کر راکٹ موٹروں کی جانچ پڑتال میں معاون آلات کی فراہمی میں ملوث پائی گئی ہے اورمزیدیہ بھی الزام لگایاگیاہے کہ یہی کمپنی پاکستان کوبڑی راکٹ موٹرزآزمانے کیلئیپرزے فراہم کرتی رہی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں ایم ٹی سی آرکیٹگری ون بیلسٹک میزائل کی پروڈکشن کی جاتی ہے۔فیکٹ شیٹ کے مطابق بیلاروس میں قائم مِنسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ نے پاکستان کوبیلسٹِک میزائل پروگرام کیلئے خصوصی گاڑیوں کے چیسس فراہم کیے ہیں۔یہ چیسس بیلسٹک میزائل کے لانچ سپورٹ پروگرام میں کام آتاہے جسے پاکستان کے نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس(این ڈی سی ) کو فراہم کیاگیاتھا۔
سی آئی اے اورپینٹاگون کی رپورٹس کے مطابق یہ کمپنیاں جوہری ہتھیاروں،بیلسٹک میزائل پروگرامزاورڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی میں ملوث ہیں،جو امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔امریکاکاالزام ہے کہ پاکستان اورچین این پی ٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری منصوبوں میں تعاون کررہے ہیں اورمیزائل ٹیکنالوجی کاتبادلہ کررہے ہیں۔مثال کے طورپر،پاکستانی کمپنیوں نے سی ایل20ایک جدید ترین’’دہماکہ خیزمادہ‘‘چین سے درآمدکیاجوبابر-3کروزمیزائل میں استعمال ہوتا ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے پاکستانی کمپنیوں کو سالانہ تین سو ملین ڈالر کا نقصان ہو گا کیونکہ ان کی 40 فیصد برآمدات امریکا پر مرکوز تھیں۔ پاکستان کا غوری تھری میزائل پروگرام 6 ماہ کیلئے معطل کر دیا گیا ہے کیونکہ اس کیلئے گئیر باکسز دستیاب نہیں ہیں
یوکرین کوامریکی ہتھیارفراہم کرنے والی کمپنیوں نے رپورٹ کیاکہ روس ایرانی ساختہ ڈرونزکے ذریعے یوکرین پرحملے کررہا ہے،جن کے پرزے متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے سپلائی کیے ہیں۔ علاوہ ازیں روس اوریوکرین جنگ کے تناظرمیں کچھ کمپنیاں روس کوڈیفنس ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے شبہات کی زدمیں ہیں اس لئے ان متاثرہ کمپنیوں کی امریکی مارکیٹ تک رسانی بندکردی گئی ہے جس سے ان کو2۔1بلین ڈالرکانقصان ہوسکتاہے۔یہ امریکی پابندیاں ان متاثرہ ممالک کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں رکاوٹ پیداکرکے سیمی کنڈکٹرز،ڈرون پارٹس،اورلیبارٹری سازوسامان کی درآمدکومتاثرکرسکتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی ان تمام متاثرہ ممالک کے ساتھ امریکااوراس کے اتحادی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات میں تنااورکشیدگی کاواضح امکان ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق مذکورہ کمپنیاں ایسے اقدامات میں ملوث ہیں جواس کی قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔امریکی محکمہ تجارت کے مطابق،یہ کمپنیاں جوہری اوربیلسٹک میزائل پروگرامز میں معاونت،غیرقانونی تجارت،اور جدید ٹیکنالوجی کی غیرمجازمنتقلی میں ملوث ہیں۔امریکاکاکہناہے کہ بعض کمپنیاں ایسے ممالک کے ساتھ تعاون کررہی تھیں جن پرجوہری عدم پھیلا ؤکے حوالے سے سخت نگرانی ہے اوران کمپنیوں نے جوہری عدم پھیلاؤکی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ کچھ کمپنیاں مبینہ طورپر پاکستان اوردیگر ممالک کے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی پروگرام میں مدددے رہی تھیں۔چین،ایران اوردیگرممالک کی کمپنیاں حساس امریکی اوردفاعی ٹیکنالوجی غیر قانونی طریقے سے منتقل کررہی تھیں۔چین اورپاکستان کے ساتھ امریکاکے تجارتی اورسفارتی تعلقات مزیدمتاثرہو سکتے ہیں۔ عالمی سپلائی چین خاص طورپرالیکٹرانکس اوردفاعی شعبوں میں میں خلل پیداہوسکتاہے۔یہ اقدام امریکااوردیگرمتاثرہ ممالک کے درمیان مزیدتناؤپیداکرسکتاہے۔بین الاقوامی منڈی میں حساس اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتاہے۔
امریکاکی پابندیوں کی زدمیں پاکستان کی19کمپنیاں زیادہ تردفاعی اورانجنئیرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔13دسمبر2021کو درجن بھرپاکستانی کمپنیوں پرپابندیاں،بشمول ڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آرگنائزیشن پرپابندی لگائی گئی تھی۔اس کے علاوہ’’اے ای ایس‘‘اڈوانسڈانجینئرنگ سلوشن،کے آرایل ٹیکنیکل سروسزاورنیشنل الیکٹرانکس سرفہرست ہیں۔ان پرالزام ہے کہ یہ کمپنیاں پاکستان کے غوری میزائل تھری کیلئے گئیرباکس اوربابرکروزمیزائل کی تیاری میں معاونت کررہی ہیں۔ایڈوانس انجیئرنگ سلوشن پریہ الزام بھی لگایاگیا کہ یہ غوری میزائل کیلئے ہائی پریشرٹربائنزتیارکرتی ہے۔اس پابندی کے بعدچین سے50ملین ڈالرکامعاہدہ منسوخ ہوگیاہے۔
 نیشنل الیکٹرانکس کمپلیکس پرالزام ہے کہ وہ پاکستان کی جوہری لیبارٹریزکیلئے سینسرزاورکنٹرول سسٹمزتیارکرتی تھی۔اسی طرح’’کے آرایل ٹیکنیکل سروسز‘‘کمپنی شاہین میزائل3 کیلئے گائیڈنس الگورتھمزگائیڈنس سسٹم تیار کرتی ہے جوامریکاکے مطابق ایف16طیاروں کے سافٹ وئیرسے چوری شدہ کوڈپرمبنی ہیں۔اسی طرح پاکستانی کمپنی نیشنل انجینئرنگ اینڈسائنسٹفک کمیشن بابر کروزمیزائل کیلئے ٹربوفین انجن کی تیاری میں ملوث ہے۔ 
امریکانے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے چارسپلائرزپر پابندی عائدکی ہے،جن پرالزام ہے کہ وہ پاکستان کے میزائل پروگرام کیلئے پرزہ جات اورٹیکنالوجی فراہم کررہے تھے۔ان متاثرہ کمپنیوں پرمختلف الزامات لگاکرجو پابندیاں لگائی گئی ہیں ان میں سرفہرست پاکستان کی ایک انڈسٹری پرمیزائل سسٹم کیلئے مخصوص اجزاکی سپلائی کاالزام لگایاگیاہے ۔ ایک دوسری کمپنی پر یہ الزام لگایاگیاہے کہ وہ غیرقانونی نیٹ ورکنگ کے ذریعے امریکی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ملوث ہے۔تیسری کمپنی پریہ الزام ہے کہ وہ میزائل پروگرام میں ضروری الیکٹرانک چِپس کی سپلائی میں ملوث ہے اورپاکستان کی ایک معروف سلوشن انجینئرنگ کمپنی پریہ الزام ہے کہ وہ جدیدنیویگیشن سسٹم کی فراہمی میں ملوث ہے جبکہ یہ تمام کمپنیاں ان الزامات سے لاعلم ہیں اورانہوں نے اپنی شفافیت پرزوردیاہے۔پاکستانی حکومت کامؤقف ہے کہ اس کی دفاعی ترقی اقوام متحدہ کے قوانین کے دائرے میں ہے اور اس کے سٹریٹیجک پروگرامز ان کے مقامی وسائل سے تیارکیے گئے ہیں۔(جاری ہے)