فرانس اور برطانیہ کے بعد کینیڈا کا فلسطینی ریاست کی حمایت پر غور

فرانس اور برطانیہ کے بعد کینیڈا کا فلسطینی ریاست کی حمایت پر غور

کینیڈا کی حکومت اب فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے قریب تر ہے۔ وزیرِ اعظم مارک کارنی جلد ایک کابینہ کا ورچوئل اجلاس بلائیں گے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خاص طور پر فلسطینی ریاستی حیثیت پر غور کیا جا سکے ۔
اس اجلاس میں حماس کے مستقبل کے کردار کی شرط بھی زیرِ بحث آئے گی — حکومت نے کہا ہے کہ وہ تسلیم ایسے وقت تک نہیں کرے گی جب تک یہ یقین نہ ہو کہ حماس کسی قسم کی سیاسی عمل میں شامل نہیں ہوگی اور اسرائیلی شہری یرغمالیوں کی رہائی یقینی ہو چکی ہو ۔
 بین الاقوامی رجحان اور سیاسی دباؤ
فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ستمبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور برطانیہ بھی اسی سمت میں حرکت کر رہا ہے — کیر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل فوری انسانی بحران ختم نہیں کرتا، تو برطانیہ تسلیم کا اعلان کر دے گا۔کینیڈا سمیت کئی ممالک (فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، مالٹا) نے انسانی بحران اور دو ریاستی حل کے لیے فلسطینی ریاست کے تسلیم کی حمایت کا عندیہ دیا ہے ۔
 داخلی سیاست اور حکومتی موقف
کینیڈا میں کچھ لیبرل ارکان پارلیمنٹ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فرانس کی مانند اس اقدام میں شامل ہو جائے۔تاہم، حکومت نے اسے مشروط تسلیم قرار دیا ہے: جب تک حماس کا مستقبل حکومت میں شامل نہ ہو اور تمام رہا شدہ یرغمالیاں واپس نہ آئیں، کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جائے گا ۔وزیر خارجہ انیتا آنند نے دو ریاستی حل کے اصولی موقف کو دہرایا، اسرائیل کی سلامتی اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت دونوں کی حمایت کا اظہار کی.