فرانس ستمبر میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرے گا، صدر میکرون کا اعلان

 فرانس ستمبر میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرے گا، صدر میکرون کا اعلان

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فرانس فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرے گا۔

 اس اقدام کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو تقویت دینا اور فلسطینی عوام کو حقِ خود ارادیت کی بین الاقوامی سطح پر حمایت فراہم کرنا ہے۔صدر میکرون نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں فلسطینی صدر محمود عباس کے نام لکھا گیا ایک خط بھی شیئر کیا، جس میں فرانسیسی حکومت کی جانب سے فلسطینی ریاست کی تسلیم کا اعلان کیا گیا ہے۔

میکرون کے بقول:"یہ فیصلہ خطے میں ایک عملی اور پُرامن راستے کی جانب پیش قدمی کی نمائندگی کرتا ہے۔ فلسطینی عوام کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بین الاقوامی سطح پر اپنے حقِ خود ارادیت کی حمایت حاصل ہو۔"
عالمی ردعمل کا امکان
فرانس کے اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر خاص طور پر یورپی یونین اور امریکی اتحادیوں میں ردعمل متوقع ہے، جن میں سے اکثر ممالک نے تاحال فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور انسانی بحران مزید بڑھ چکے ہیں، خاص طور پر غزہ میں جاری صورتحال کے پیش نظر۔

موجودہ مصروفیات
صدر میکرون ان دنوں جرمنی کے دورے پر ہیں جہاں وہ چانسلر فریڈرک مرز سے دوطرفہ تعلقات اور یورپی امور پر ملاقاتیں کر رہے ہیں۔