سفارتکاروں پر اسرائیلی فائرنگ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کی شدید مذمت

سفارتکاروں پر اسرائیلی فائرنگ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کی شدید مذمت

ویب ڈیسک: مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیلی فوج کی جانب سے بین الاقوامی سفارت کاروں پر فائرنگ کے واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔

 کینیڈا، برطانیہ، فرانس، میکسیکو اور اٹلی سمیت کئی ممالک نے اسرائیلی رویے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سفارتی مشنز سے تعلق رکھنے والے نمائندے جنین کے ایک پناہ گزین کیمپ کے دورے پر موجود تھے جب اسرائیلی افواج کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے لیے بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

کینیڈا کا سخت ردعمل
کینیڈا نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرتے ہوئے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ کینیڈین وزیر برائے عالمی امور نے کہا کہ:"ہم توقع کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت فوری طور پر اس واقعے پر وضاحت دے گی، کیونکہ سفارتکاروں کی سلامتی پر حملہ ناقابلِ قبول ہے۔"
برطانیہ: "سفارتی عملے کو اپنا کام کرنے دیا جائے"
برطانوی وزارتِ خارجہ کے ایک انڈر سیکریٹری نے واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"یہ واقعہ انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے، سفارتی عملے کو بلا خوف و خطر اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔"
فرانس، میکسیکو اور اٹلی کی مذمت
فرانسیسی اور میکسیکن حکام نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی اقدام کو سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ اطالوی وزیر خارجہ نے بھی کہا:"ہم اس واقعے پر اسرائیلی حکومت سے وضاحت طلب کریں گے۔ ایسے خطرات کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔"
عالمی سفارتی ضابطوں کی خلاف ورزی
ماہرین کے مطابق، اسرائیلی فوج کی جانب سے غیر مسلح سفارت کاروں کے قافلے پر فائرنگ نہ صرف ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عمل خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کا نوٹس متوقع
سفارتی ذرائع کے مطابق، اقوام متحدہ میں آئندہ اجلاس میں اس واقعے کو ایجنڈے کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے تاکہ اسرائیل پر سفارتی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔