لندن: بی بی سی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ یوکرین جنگ سے واپس آنے والے روسی فوجیوں کو پولیس اور سرکاری اہلکار نشانہ بنا کر ان کی تنخواہیں اور بونس چھین رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتن نے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد فوج کا حجم تین گنا بڑھایا تھا اور بھاری مراعات کا اعلان کیا تھا۔ فوجیوں کو پہلے سال 52 لاکھ روبل تک جبکہ زخمی ہونے پر مزید 40 لاکھ روبل بطور معاوضہ دیا جاتا ہے۔39 سالہ فوجی نکیتا خورسا نے بتایا کہ زخمی ہو کر وطن واپس آنے کے بعد پولیس نے اس سے 26 لاکھ 60 ہزار روبل چھین لیے۔ نکیتا نے پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت درج کرائی مگر وہ مقدمے سے بچنے کے لیے جنگ میں شامل ہوگئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ماسکو ایئرپورٹ پر پولیس اور ٹیکسی ڈرائیورز کا گینگ فوجیوں کو لوٹتا رہا، ٹیکسی کرایہ 15 گنا بڑھا کر وصول کیا جاتا تھا، بعض فوجیوں کو نشہ دے کر بینک کارڈز کا بھی استعمال کیا گیا۔تفتیشی حکام کے مطابق فوجیوں کو لوٹنے والے ٹیکسی گینگ نے اب تک کم از کم 15 لاکھ روبل ہتھیائے ہیں۔