یوکرین جنگ: روس کو فوجیوں کی کمی کا سامنا، نئی بھرتیوں میں تیزی

یوکرین جنگ: روس کو فوجیوں کی کمی کا سامنا، نئی بھرتیوں میں تیزی

یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ 2026 کے دوران اب تک روس کے 83 ہزار سے زائد فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی نقصانات 141 ہزار 500 سے بڑھ گئے ہیں۔

 یہ اعداد و شمار یوکرینی فوجی قیادت کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔عرب میڈیا کے مطابق یوکرینی فوج کے سربراہ اولیکساندر سیرسکی نے کہا ہے کہ روسی فوج مسلسل کمزور ہو رہی ہے اور متعدد محاذوں پر یوکرین نے پیش قدمی حاصل کر لی ہے۔یوکرینی انٹیلی جنس کے مطابق روس روزانہ بڑی تعداد میں فوجی نقصان اٹھا رہا ہے جبکہ نئی بھرتیوں کی رفتار نسبتاً کم ہے، جس کے باعث روس کے کئی علاقوں میں فوج میں شمولیت کے لیے مالی مراعات میں اضافہ کیا گیا ہے۔یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روس اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے اضافی نفری جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں مختلف خطوں میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب یوکرین نے روسی تیل کی تنصیبات اور ریفائنریز پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ عالمی توانائی اداروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے باعث روس کی تیل پیداوار اور ریفائننگ صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یوکرینی ڈرون حملوں سے روس کی متعدد صنعتی اور توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں ماسکو کے قریب بعض اہم تنصیبات بھی شامل ہیں۔ادھر روس نے بیلاروس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر رکھی ہیں جن میں ہزاروں فوجی اور بھاری جنگی ساز و سامان شامل ہے۔ روس کی جانب سے بیلاروس میں مزید عسکری تعاون اور بعض دفاعی اقدامات کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیلاروس براہ راست جنگ میں شامل ہوا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، جبکہ دونوں فریقین کی جانب سے جنگی کارروائیاں اور بیانات خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔