برطانوی دستاویزی فلم ’Breaking Ranks: Inside Israel’s War‘ میں اسرائیلی فوجیوں کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں انہوں نے غزہ کی جنگ کے دوران پیش آنے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور فوجی کارروائیوں کی نوعیت کو بے نقاب کیا ہے۔
فوجیوں نے بتایا کہ غزہ میں صورتحال انتہائی بدتر تھی، جہاں شدید گرمی، ریت، بدبو اور مردہ جسموں سے بھٹکتے ہوئے کتے عام تھے، اور نہ کوئی درخت، پودا یا سڑک موجود تھی۔فوجیوں کے مطابق، وہاں کسی قانون کی پرواہ کیے بغیر، ’ہر جگہ، ہر وقت کسی کو بھی گولی مارو‘ کی پالیسی اپنائی گئی تھی۔ بعض فوجی اپنی کارروائیوں پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا احساس تھا، مگر حکم کے مطابق عمل کرنا پڑا۔ ایک فوجی نے بتایا کہ غزہ میں ’کوئی انسان نہیں ہے‘ جیسا مؤقف عام تھا، اور کچھ فوجیوں نے خود گھر تباہ کرنے والے بُل ڈوزر چلانے کا اعتراف بھی کیا۔دستاویزی فلم میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ فلسطینی شہریوں کو بطور ’انسانی ڈھال‘ استعمال کیا گیا، اور انہیں پکڑ کر فوجی کارروائیوں کے دوران استعمال کیا جاتا تھا۔ بعض فوجیوں نے بتایا کہ اس عمل کو ’مکھی پروٹوکول‘ کہا جاتا تھا، اور اس کے تحت سیکڑوں گھروں، اسکولوں، اسپتالوں اور جامعات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے وسیع پیمانے پر فلسطینی شہری بے گھر ہوئے۔
اسرائیلی فوجیوں کے ان اعترافات کے بعد اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے الزامات کی تحقیقات کی ہیں، لیکن ایک برطانوی مانیٹرنگ تنظیم کے مطابق، یہ تحقیقات محدود اور کمزور نوعیت کی تھیں، اور مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔ یہ انکشافات غزہ پر دو سال قبل مسلط کی گئی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک گہرا اور شرمناک چہرہ پیش کرتے ہیں، جس میں شہریوں کی بقاء اور انسانی ساخت کو تباہ کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔