یوکرین کا روسی صدر پیوٹن کے ہیلی کاپٹر پر مبینہ ڈرون حملہ، روسی فورسز نے ناکام بنا دیا

یوکرین کا روسی صدر پیوٹن کے ہیلی کاپٹر پر مبینہ ڈرون حملہ، روسی فورسز نے ناکام بنا دیا

ماسکو / کرسک — روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ہیلی کاپٹر کو یوکرینی ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جسے روسی فضائی دفاعی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

 یہ واقعہ صدر پیوٹن کے کرسک ریجن کے دورے کے دوران پیش آیا۔

 حملے کی تفصیلات:
برطانوی میڈیا رپورٹس اور روسی فوجی ذرائع کے مطابق، گزشتہ ہفتے ولادیمیر پیوٹن ایک دورے پر روانہ تھے جب ان کے Mi-17 ہیلی کاپٹر کو یوکرین کی جانب سے ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔روسی فضائی دفاعی ڈویژن کے کمانڈر یوری داشکن نے بتایا:"ڈرونز کا ہدف صدارتی ہیلی کاپٹر ہی تھا، لیکن ہمارے اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضا میں صدر کی پرواز کو محفوظ بنایا۔"
صدارتی ہیلی کاپٹر کی خصوصیات:
Mi-17 ہیلی کاپٹر تقریباً 82 فٹ لمبا ہے۔
یہ 30 مسافروں یا 4 ٹن سامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جدید دفاعی نظام سے لیس ہے، جن میں:

انفراریڈ جیمرز
فلیئر ڈسپنسرز
میزائل مخالف ٹیکنالوجی
بکتر بند تحفظ شامل ہیں۔
 دورے کی جھلکیاں:
روسی صدر کامیابی سے کرسک ریجن پہنچے جہاں انہوں نے:

مقامی رضاکاروں
میونسپل حکام
عبوری گورنر سے ملاقاتیں کیں۔
 تجزیہ:
یہ حملہ ایسے وقت پر ہوا جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور یوکرین نے حالیہ ہفتوں میں روس کے اندر متعدد ڈرون حملے کیے ہیں۔ اگرچہ روس نے اس مخصوص واقعے کو ناکام بنایا، لیکن یہ واقعہ صدارتی سیکیورٹی پر ایک اہم سوالیہ نشان بھی ہے۔