ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فدان اور سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی ہے، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے جنوبی ایران میں مبینہ امریکی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ہیں۔گفتگو کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، اور ان کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی مسلح افواج کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت جائز ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ان رابطوں کا مقصد خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچنے اور علاقائی ممالک کو ایران کے مؤقف سے آگاہ کرنا تھا۔ ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے گفتگو میں تحمل اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی مختلف محاذوں پر تناؤ بڑھ رہا ہے اور حالیہ واقعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔