ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا سخت ردعمل، کسی بھی حملے کا فوری اور طاقتور جواب دینے کا اعلان

ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا سخت ردعمل، کسی بھی حملے کا فوری اور طاقتور جواب دینے کا اعلان

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو حملے کی دھمکی اور مذاکرات کی میز پر آنے کے مطالبے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے فوجی جوان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی حملے کا فوری اور طاقتور جواب دیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سوال اس وقت پوری دنیا میں زیرِ بحث ہے کہ آیا امریکا واقعی ایران پر حملہ کرے گا یا نہیں۔ خطے میں امریکی جنگی بیڑوں کی تعیناتی اور فوجی مشقوں کے باعث ہر گزرتے دن کے ساتھ جنگ کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں ایران پر زور دیا تھا کہ وہ جلد مذاکرات کی میز پر آئے، ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ ایران کے پاس وقت کم ہے۔ ان دھمکیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ 12 روزہ جنگ سے ایران نے سبق سیکھا ہے اور اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ ایسے شفاف جوہری معاہدے کا حامی رہا ہے جو باہمی مفاد پر مبنی ہو اور دھمکیوں سے پاک ہو۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ انہیں امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ معاہدہ کرے گا، جس میں ایٹمی ہتھیار شامل نہ ہوں اور جو تمام فریقوں کے لیے بہتر ہو۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق ٹرمپ کے حالیہ بیانات خاص توجہ حاصل کر رہے ہیں، حالانکہ گزشتہ سال امریکا ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کر چکا ہے۔