ٹرمپ کے وینزویلا کو 51ویں امریکی ریاست بنانے کے خیال پر وینزویلا کی صدر کا فوری اور سخت ردعمل

ٹرمپ کے وینزویلا کو 51ویں امریکی ریاست بنانے کے خیال پر وینزویلا کی صدر کا فوری اور سخت ردعمل

وینزویلا اور امریکہ کے درمیان جاری سیاسی اور بین الاقوامی امور کے حوالے سے اہم ہے۔

وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا کو 51ویں ریاست بنانے پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنے ملک کی خودمختاری اور آزادی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا ایک آزاد ملک ہے اور اس کا کوئی منصوبہ امریکہ کی کسی بھی ریاست میں شامل ہونے کا نہیں ہے۔یہ ردعمل ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں وینزویلا اور گیانا کے درمیان معدنیات اور تیل کے تنازع کی سماعت کے دوران دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وینزویلا بین الاقوامی سطح پر اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ڈیلسی روڈریگز نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنی سرزمین، تاریخ اور آزادی کا دفاع کریں گے، اور یہ کہ وینزویلا ایک کالونی نہیں بلکہ ایک خودمختار ملک ہے۔
یاد رہے کہ ڈیلسی روڈریگز نے جنوری میں، اُس وقت کے صدر نکولس مادورو کو ہٹا کر اقتدار سنبھالا تھا، جس کے بعد سے وینزویلا میں سیاسی حالات کشیدہ ہیں۔ یہ بیان امریکہ کے ساتھ وینزویلا کے تعلقات اور خطے میں جاری سیاسی تنازعات کا ایک اہم پہلو ہے۔